مفتی صاحب!
کیا امام کا محراب میں کھڑے ہو کر نماز پڑھانا مکروہ ہے؟ ایک ساتھی اسے مکروہ کہہ رہے ہیں ۔
نماز کی ادائیگی میں امام کا محراب سے تھوڑا سا باہر کھڑا ہونا سنت کے مطابق ہے، اس کی حکمت یہ ہے کہ صف کے دونوں جانب کھڑے نمازی امام کو بآسانی دیکھ سکیں، جس سے اقتداء میں سہولت اور نظم قائم رہتا ہے، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل سے بھی یہی طریقہ منقول ہے کہ امام نمایاں مقام پر کھڑا ہوتا تھا، تاکہ مقتدیوں کے لیے اقتداء آسان ہو۔
البتہ اگر مسجد میں جگہ تنگ ہو یا محراب سے باہر کھڑا ہونا دشوار ہو تو ایسی صورت میں امام کا محراب کے اندر کھڑا ہونا مکروہ نہیں۔
*الدر المختار:(645/1،ط: دارالفكر)*
وقيام الإمام في المحراب لا سجوده فيه) وقدماه خارجة لأن العبرة للقدم (مطلقا) وإن لم يتشبه حال الإمام إن علل بالتشبه وإن بالاشتباه ولا اشتباه فلا اشتباه في نفي الكراهة.
*مراقي الفلاح :(132/1،ط:المكتبة العصرية)*
و«يكره»قيام الإمام«بجملته»في المحراب«لا قيامه خارجه وسجوده فيه - سمي محرابا لأنه يحارب النفس والشيطان بالقيام إليه - والكراهة لاشتباه الحال على القوم وإذا ضاق المكان فلا كراهة.