معاشرت زندگی / علاج و معالجہ / علاج و دواء

مسلمان کے لیے غیر مسلم سے علاج کرانا

فتوی نمبر : 1955 0000-00-00 75 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

کسی مسلمان کے لیے ہندو ڈاکٹر سے اپنی کسی بیماری کا علاج کرانا جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی مسلمان کے لیے بیماری کا علاج ہندو ڈاکٹر سے کروانے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر کسی غیر مسلم کا طریقہ علاج کفریہ، شرکیہ امور پر مبنی ہو تو مسلمان کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

*البحر الرائق شرح:(2/ 303،ط: دار الكتاب الإسلامي)* وفيه إشارة إلى أن المريض ‌يجوز ‌له ‌أن ‌يستطب ‌بالكافر فيما عدا إبطال العبادة؛ *الشامیة:(2/ 423،ط:دارالفکر)* وفيه إشارة إلى أن المريض ‌يجوز ‌له ‌أن ‌يستطب ‌بالكافر فيما عدا إبطال العبادة۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
علاج کا سنت طریقہ
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
مسلمان کے لیے غیر مسلم سے علاج کرانا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
علاج کے لیے قرآنی آیات لکھ کر پلانے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
علاج کروانا توکل کے منافی نہیں
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیماری سے پہلے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
مریضہ عورت کا مرد ڈاکٹر سے علاج کروانا