غیر مسلم ممالک میں رہائش کی ضرورت پر سودی قرض لینا کیسا ہے ؟
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔
میرا نام علی ہے اور میں اس وقت اپنی بیوی کے ساتھ اٹلی میں مقیم ہوں، میں نے اس مسئلے میں پہلے بھی رجوع کیا تھا، لیکن تفصیل سے جواب نہ ملنے کی وجہ سے دوبارہ پوچھنا پڑ رہا ہے۔ پچھلا جواب حقیقت حال سے پوری طرح ہم آہنگ نہ ہو سکا اور بہت عمومی نوعیت کا تھا، جو میری مخصوص صورت حال پر لاگو نہیں ہوتا۔ یہاں ہمیں ایک مشکل صورت حال کا سامنا ہے، اٹلی میں اسلامی فنانس یا حلال مور گیج کا کوئی عملی اور قابل اعتماد آپشن موجود نہیں ہے، میری خواہش ہے کہ ضرورت کے باوجود دین کی حدود کے اندر رہ کر کوئی درست فیصلہ کروں، اس پر رہنمائی اور دعا کا طالب ہوں۔ موجودہ معاشی حقیقت یہ ہے کہ بہت سے غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کی زندگی سودی بینکاری سے جڑی ہوئی ہے، بعض جگہ مسلمانوں کو کرائے کے گھر لینے میں بھی تعصب کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔ ہمارے جیسے لوگوں کے لیے اکثر اپنا گھر خریدنا ہی ایک واحد قابل عمل حل رہ جاتا ہے، کیا ر ہائشی ضرورت (ضرورت سکونت ) کی بنیاد پر سودی قرضہ لینا شرعاً جائز ہو سکتا ہے؟
اب میرے ذاتی حالات کا ایک اہم پہلو بھی عرض ہے : یہاں کرائے پر مناسب گھر ملنا تقریباً نا ممکن ہو گیا ہے۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں:
:1) مسلمانوں اور تارکین وطن کے خلاف نفرت یا تعصب
(2) مکان مالکان کا امیگرینٹس کو گھر دینے سے عمومی انکار۔
ہمیں بھی انہی مشکلات کا سامنا ہے۔ میر ا موجودہ گھر بچے کی آمد کے بعد چھوٹا پڑ رہا ہے اور قانون کے مطابق گھر کے رقبے کے لحاظ سے ہم تین افراد کو وہاں رہنے کی اجازت نہیں رہے گی، اس وجہ سے مالک مکان بھی بچے کے ساتھ رہنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں۔ میں پچھلے ایک سال سے گھر کی تلاش میں ہوں، مگر ہر جگہ سے انکار ہی ملا ہے، قریبی لوگ مشورہ دیتے ہیں کہ میں ایک چھوٹا گھر فکسڈ ریٹ مورگیج پر لے لوں، کیونکہ میں مالی طور پر اسے آسانی سے مینیج کر سکتا ہوں۔ یہاں بینک سے فکسڈ انٹرسٹ پر مور گیج کا نظام یہ ہے کہ شروع میں ہی مکمل حساب طے ہو جاتا ہے، کوئی سالانہ ہڈن چارج نہیں ہوتا اور اگر قسطیں نہ دی جائیں تو بینک گھر بیچ کر اپنا حق وصول کر لیتا ہے، باقی رقم خریدار کو لو ٹا دیتا ہے، یہ صورت حیرت انگیز طور پر اسلامی بینکنگ کے ماڈل سے بہت ملتی جلتی ہے۔
آج کل موجودہ اسلامی بینکنگ مثلاً میزان بینک وغیرہ بظاہر اسلامی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں بہت سے ماہرین معاشیات اور کئی مفتیان کرام ، خصوصاً مغربی ممالک کے علماء، اس بات پر متفق ہیں کہ یہ نظام روایتی بینکنگ سے عملی طور پر بہت مختلف نہیں، بعض کہتے ہیں کہ یہ دراصل ایک گنجائش یا حیلہ ہے جو لوگوں کے اطمینان قلب کے لیے بنایا گیا ہے ، ورنہ اصل نظام سود سے مکمل پاک نہیں، اگر خود اسلامی بینکنگ ” ہی مشکوک ہو تو کیا روایتی بینک کا استعمال بھی اس درجے میں شمار ہو گا ؟ بینک عام طور پر قرض کے بدلے مقررہ زائد رقم لیتا ہے ؛ مثلا 50,000 کے بدلے 5 سال میں 60,000، کیا یہ طے شدہ زیادتی (Fixed Interest) شرعاً سود کہلائے گی ؟
اسلامی بینک، مثلاً میزان ، خود کو مکان کا شریک یا مالک ظاہر کرتا ہے ، قسط نہ دینے پر مکان ضبط یا فروخت کر سکتا ہے اور منافع ، کرایہ ” کے نام سے لیتا ہے۔ دوسری طرف روایتی بینک اسی رقم کو قسط یا سود کہتا ہے۔
کیا ایسی اسکیم واقعی شراکت یا کرایہ داری کہلائے گی یا یہ بھی سود ہی کی ایک نئی شکل ہے ؟
میں چاہتا ہوں کہ اپنے والدین کو بھی کچھ عرصے کے لیے بلاؤں، تاکہ بچے کی پیدائش کے وقت وہ ہمارے لیے سہار ابن سکیں، لیکن موجودہ گھر اس کے لیے بھی مناسب نہیں۔ دوسری طرف اگر میں گھر خریدنا چاہوں تو موجودہ حالات میں 20 سال تک بھی بچت کر کے گھر لینا تقریب نا ممکن ہے، جبکہ ضرورت آج کی ہے اور شدید ضرورت ہے۔
اسلامی بینکنگ میں بھی کرائے اور قیمت کا ریٹ پہلے سے طے ہوتا ہے، لیکن ہر سال ریویجن کی وجہ سے قسطیں بڑھ جاتی ہیں، جبکہ روایتی بینک میں فکسڈ ریٹ کی سہولت موجود ہے۔ اس سب کو دیکھ کر دونوں نظام ایک ہی جیسے محسوس ہوتے ہیں۔ اللہ بہتر جانتا ہے، لیکن میری صور ت حال واقعی مشکل ہے۔ دل مطمئن نہیں ہوتا مگر حالات دیکھ کر دوبارہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہوں .. بے شک اللہ ہی راستے بنانے والا ہے۔
واضح رہے کہ شریعتِ اسلامیہ میں یہ اصول قطعی ہے کہ قرض کے بدلے وقت کی بنیاد پر پہلے سے طے شدہ و زائد رقم لینا یا دینا سود (ربا) ہے اور یہ ہر حال میں حرام ہے ، چاہے اسے فکسڈ ریٹ مورگیج کہا جائے یا کسی اور نام سے ، اصل اعتبار معاہدے کی حقیقت کا ہوتا ہے ، نہ کہ اس کے نام یا قانونی شکل کا۔ یہ بات درست ہے کہ یورپ جیسے ممالک میں مسلمانوں کو رہائش کے شدید مسائل کا سامنا ہوتا ہے ، جیسا کہ آپ نے تعصب، کرائے پر گھر نہ ملنا، بچے کی پیدائش کے بعد قانونی رکاوٹیں اور طویل تلاش کے باوجود ناکامی کا ذکر کیا ہے، یہ سب حالات واقعی سخت اور قابل ہمدردی ہیں، لیکن فقہ اسلامی میں ہر شدید مشکل صورت شرعی اضطرار نہیں کہلاتی۔
اضطرار اور ضرورت وہ حالت ہے کہ اگر حرام سے بچا جائے تو جان، دین یا عزت کے یقینی زوال کا خطرہ ہو ، جبکہ گھر کا چھوٹا پڑ جانا، کرایہ نہ ملنا یا ذاتی گھر کی شدید ضرورت ، حاجت کے درجے میں آتی ہے ، اضطرار کے درجے میں نہیں، اسی بنا پر فقہائے احناف کے نزدیک رہائش کے لیے سودی قرض لینا جائز نہیں ہوتا۔
آپ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب اسلامی بینکنگ اور روایتی بینکنگ عملا ایک جیسی محسوس ہوتی ہیں تو پھر فرق کیا رہ جاتا ہے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت میں نتیجے کی مشابہت فیصلہ کن نہیں ہوتی، بلکہ معاہدے کی نوعیت فیصلہ کن ہوتی ہے۔
روایتی بینک حقیقت میں رقم قرض دے کر اس پر طے شدہ اضافہ لیتا ہے جو صریح سود ہے، چاہے حساب پہلے سے طے اور شفاف ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے مقابلے میں اسلامی بینکنگ اصولاً خرید و فروخت ، شراکت یا اجار ہ پر قائم ہوتی ہے ، اس لیے معاہدے کی نوعیت مختلف ہوتی ہے ، اگرچہ عملی سطح پر بعض جگہ شبہات یا کمزوریاں پائی جاسکتی ہیں۔ شریعت میں فیصلہ طریقہ کار کی بنیاد پر ہوتا ہے ، نہ کہ صرف ظاہری مشابہت پر، لہٰذا محض رہائشی ضرورت اور شدید دباؤ کی بنا پر سودی مورگیج کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے آپ کو چاہیے کہ کہیں سے غیر سودی قرضہ لے کر گھر بنانے کی کوشش کریں۔
*القرآن المجيد:(2:275)*
أحل الله البيع وحرم الربا.
*عمدة القاري شرح صحيح البخاري:(201:202/11،ط: دارالفکر)*
حدثنا أبو الوليد قال حدثنا شعبة عن عون بن أبي جحيفة قال رأيت أبي اشترى عبدا حجاما فأمر بمحاجمه فكسرت فسألته فقال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن ثمن الكلب وثمن الدم ونهى عن الواشمة والموشومة وأكل الربا وموكله ولعن المصور. قوله: (وأكل الربا) ، أي: ونهى أكل الربا عن أكله، وكذا نهى موكله عن إطعامه غيره، ويقال: المراد من الأكل آخذه كالمستقرض، ومن الموكل معطيه كالمقرض.
والنهي في هذا كله عن الفعل، والتقدير عن فعل الواشمة، وفعل الموشومة، وفعل الأكل وفعل الموكل، وخص الأكل من بين سائر الانتفاعات لأنه أعظم المقاصد.
*شرح النووي:(26/11، ط:دارالتراث)*
أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال هم سواء هذا تصريح بتحريم كتابة المبايعة بين المترابين والشهادة عليها وفيه تحريم الإعانة على الباطل والله أعلم.
*مرقاة المفاتيح:(1916/5،ط: دارالفکر)*
قال الخطابي: سوى رسول الله صلى الله عليه وسلم بين آكل الربا وموكله، إذ كل لا يتوصل إلى أكله إلا بمعاونته ومشاركته إياه، فها شريكان في الإثم كما كانا شريكين في الفعل، وإن كان أحدهما مغتبطا بفعله لم
يستفضله من البيع، والآخر منهضا لما يلحقه من النقص، والله عز وجل حدود فلا تتجاوز وقت الوجود من الربح والعدم وعند العسر واليسر، والضرورة لا تلحقه يوجه في أن يوكله الربا، لأنه قد يجد السبيل إلى أن يتوصل يستفضله من البيع، والآخر منهضا لما يلحقه من النقص، والله عز وجل حدود فلا تتجاوز وقت الوجود من إلى حاجة بوجه من وجوه المعاملة والمبايعة ونحوها قال الطيبي رحمه الله: لعل هذا الاضطرار يلحق بموكل فينبغي أن يحترز عن صريح الربا فيثبت بوجه من وجوه المبايعة لقوله - تعالى: (وأحل الله البيع وحرم الربا } [البقرة: ٢٧٥]
لكن مع وجل وخوف شديد عسى الله أن يتجاوز عنه ولا كذلك الأكل.
*شرح الحموي على الأشباه والنظائر:(251:252/1،ط:ادارۃ القرآن)*
الأولى: الضرورات تبيح المحظورات، ومن ثم جاز أكل الميئة عند المخمصة، وإساعة اللقمة بالخمر، والتلفظ بكلمة
الكفر للإكراه الثانية: ما أبيح للضرورة يقدر بقدرها الح
( قوله: الثانية ما أبيح للضرورة إلخ) في فتح القدير هاهنا خمسة مراتب. ضرورة وحاجة ومنفعة وزينة وفضول.
فالضرورة بلوغه حدا إن لم يتناول الممنوع هلك إذا قاربه، وهذا يبيح تناول الحرام.
والحاجة كالجائع الذي لو لم يجد ما يأكله لم يهلك غير أنه يكون في جمد ومشقة وهذا لا يبيح الحرام، ويبيح الفطر في الصوم والمنفعة كالذي يشتهي خبز البر، ولحم الغنم والطعام الدسم والزينة كالمشتهي الحلوى والسكر، والمفضول التوسع بأكل الحرام والشبية.
*أيضا:(267/1)*
يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح (انتهى).