بعض بیٹوں کا والد کے کاروبار کو آگے بڑھانے کے بعد دیگر بھائیوں کی شراکت کا حکم

فتوی نمبر :
2067
معاملات / مالی معاوضات /

بعض بیٹوں کا والد کے کاروبار کو آگے بڑھانے کے بعد دیگر بھائیوں کی شراکت کا حکم

مجھے ایک مسئلہ کا شرعی حل درکار ہے مسئلہ یہ ہے کہ باپ وفات پا گیا، اس کی ایک بیوہ ، دو بیٹیاں اور چار بیٹے ہیں، باپ کی زندگی میں تو تین بیٹے باپ کے ساتھ کاروبار کرتے تھے، لیکن ایک بیٹے کو باپ نے پڑھنے کے لئے بھیجا ہوا تھا کاروبار باپ کا کھڑا کیا ہوا ہے، جب باپ فوت ہوا تو کاروبار اور دکان جس میں کاروبار چلتا تھا چھوڑی، وفات کے چھ سال بعد ڈگری لے کر چوتھا بیٹا واپس آگیا ہے اب یہ جو چھ سال کا دورانیہ ہے اس میں جو بھی کمائی ہوئی ہے اس میں تمام وارث حصہ دار ہوں گے یا صرف تین بیٹے جو کاروبار پر محنت کر رہے ہیں وہ ہی اس چھ سال کی کمائی کے حقدار ہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جب بیٹے والد کے ساتھ اس کے کاروبار میں شریک ہو کر اس کو آگے بڑھائیں تو وہ کاروبار اور اس سے حاصل ہونے والا سارا نفع والد ہی کا شمار ہوتا ہے ، بیٹے صرف اس کے معین و مددگار ہوتے ہیں ، البتہ اگر بیٹے اس کاروبار میں اپنا ذاتی سرمایہ لگائیں یا ان کی کفالت الگ ہو، والد کے زیر کفالت نہ ہوں تو اس صورت میں ان کی کمائی ان کی ذاتی شمار ہوگی ، لہذا صورت مسؤلہ میں جب بیٹوں نے والد ہی کا کاروبار آگے بڑھایا ہے اور اس میں اپنی ذاتی کوئی سرمایہ کاری نہیں کی اور نہ ہی ان کی کفالت الگ تھی تو اب والد کے فوت ہونے کے بعد سارے بھائی اس میں برابر کے شریک ہوں گے اور ان چھ سالوں میں تین بھائیوں نے جو کمائی کی ہے، اس میں بھی چوتھا بھائی اور دیگر ورثا(بیوہ اور دو بیٹیاں) شریک ہوں گے ۔

حوالہ جات

*الشامية: (4/ 325،ط:دارالفكر)*
الأب ‌وابنه ‌يكتسبان ‌في ‌صنعة ‌واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له..

*درر الحكام: (3/ 420،ط:دارالجیل)*
المادة (1398) - (إذا عمل أحد في صنعته مع ابنه الذي في عياله فكافة الكسب لذلك الشخص ويعد ولده معينا، كما أنه إذا غرس أحد شجرا فأعانه ولده الذي في عياله فيكون الشجر لذلك الشخص ولا يشاركه ولده فيه)
إذا عمل أحد في صنعة هو وابنه الذي في عياله واكتسبا أموالا ولم يكن معلوما أن للابن مالا سابقا فكافة الكسب لذلك الشخص ولا يكون لولده حصة في الكسب بل يعد ولده معينا وليس له طلب أجر المثلحتى أنه لو تنازع الأب في المتاع الموجود في بيته مع أولاده الخمسة الذين يقيمون معه في ذلك البيت وادعى كل منهم أن المتاع له فالمتاع للأب ولا يكون للأولاد غير الثياب التي هم لابسوها (التنقيح) ما لم يثبتوا عكس ذلك ويوجد ثلاثة شروط لأجل اعتبار الولد معينا لأبيه:
1 - اتحاد الصنعة، فإذا كان الأب مزارعا والابن صانع أحذية فكسب الأب من المزارعة والابن من صنعة الحذاء، فكسب كل منهما لنفسه وليس للأب المداخلة في كسب ابنه لكونه في عياله.
وقول المجلة (مع ابنه) إشارة لهذا الشرط. مثلا إن زيدا يسكن مع أبيه عمرو في بيت واحد ويعيش من طعام أبيه وقد كسب مالا آخر فليس لإخوانه بعد وفاة أبيه إدخال ما كسبه زيد في الشركة. كذلك لو كان اثنان يسكنان في دار وكل منهما يكسب على حدة وجمعا كسبهما في محل واحد ولم يعلم مجموعه لمن كما أنه لم يعلم التساوي أو التفاوت فيه فيقسم سوية بينهما ولو كانا مختلفين في العمل والرأي
2 - فقدان الأموال سابقا. إذا كان للأب أموال سابقة كسبها ولم يكن معلوما للابن أموال بأن ورث من مورثه أموالا معلومة فيعد الابن في عيال الأب
3 - أن يكون الابن في عيال أبيه، أما إذا كان الأب يسكن في دار والابن في دار أخرى وكسب الابن أموالا عظيمة فليس للأب المداخلة في أموال ابنه بداعي أنه ليس للابن مال في حياة أبيه.
كذلك لو كان إخوة أربعة في عائلة واحدة وسعوا في تكثير وتنمية الأموال الموروثة عن أبيهم فتقسم الأقسام بينهم بالسوية ولا ينظر إلى اختلاف عملهم أو اختلاف رأيهم وتعبير (ولده)..

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
28
فتوی نمبر 2067کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --