طلاق

طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
2087
معاملات / احکام طلاق / طلاق

طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے کا حکم

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته محترم مفتی صاحب!
میں، عمر فاروق ولد مسعود عزیز، آپ سے شرعی رہنمائی چاہتا ہوں، میں نے اپنی بیوی کو گھریلو جھگڑے کی وجہ سے صرف ایک طلاق دی تھی، میں نے یہ الفاظ کہے کہ میں اپنے پورے ہوش وحواس میں تمہیں ایک طلاق دیتا ہوں، اس کے بعد ہماری آپس میں صلح ہوگئی اور میں نے رجوع کر لیا اور ہم میاں بیوی کے حقوق ادا کرنے لگے، پھر کچھ عرصہ بعد میں روزگار کے لیے سعودی عرب آگیا، پھر کچھ عرصہ بعد ایک لڑائی جھگڑے کی وجہ سے میری بیوی نے عدالت میں خلع کا کیس دائر کردیا، عدالت میں کیس دوران میں نے اپنے پیر و مرشد صاحب کو واٹس ایپ پر وائس میسج کیے کہ حضرت میرے لئے دعا کریں کہ میرا گھر بچ جائے اور میں نے اپنے پیر و مرشد صاحب کو یہ وائس میسج کیا کہ جب میں پاکستان میں تھا تو میں نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دی تھیں، یہ میں نے لوگوں کے کہنے پر کہا، کیونکہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ دو طلاقیں ہوئی ہیں، حالانکہ اصل حقیقت صرف ایک طلاق ہے، لیکن کچھ لوگ مجھے بار بار یہ بات کر رہے ہیں کہ تمہاری دو بار لڑائی ہوئی تھی تم نے دوسری بار بھی طلاق دی تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دوسری بار لڑائی میں طلاق نہیں دی گئی اور نہ ہی طلاق کا کوئی ذکر یا لفظ استعمال ہوا، بس یہ الفاظ کسی کو کال کرکے بولے تھے کہ تم آجاؤ میں نے اس کو پہلے ایک طلاق دی ہوئی ہے، آج باقی بھی دوں گا، لیکن دی نہیں تھی، میری بیوی بھی حلف دے رہی ہے، دوسری لڑائی میں طلاق نہیں دی، لیکن اس شخص نے ایک ہی ضد پکڑی ہوئی ہے کہ تم نے مجھے یہ کہا ہے کہ میں نے اسے طلاق دے دی ہے ،حالانکہ میں نے اسے یہ کہا تھا کہ ایک دی ہوئی ہے باقی آج دوں گا، لیکن دی نہیں، اس وجہ سے میں نے اپنے پیر صاحب کو کہہ دیا، صرف کچھ لوگوں کے کہنے کی وجہ سے کہ میں نے دو طلاق دی ہیں، براہ کرم بتائیں: شریعت کے مطابق کتنی طلاق واقع ہوئی ہیں؟ اور لوگوں کو کیسے صحیح اور شرعی طریقے سے آگاہ کیا جائے ؟
تاکہ غلط فہمی ختم ہو اور عزت و بیوی کے حقوق محفوظ رہیں؟

ضروری نقطہ:
ایک شخص کو دوسری بار لڑائی ہونے پر کال کی گئی اور یہ کہا کہ میں نے اس کو ایک طلاق دی ہوئی ہے، باقی آج دے کر جاؤں گا اور اس شخص کا کہنا ہے کہ تم نے مجھے یہ کہا کہ ایک طلاق دے دی ہے، باقی تم آؤ گے تو دے کر جاؤں گا اور اس بندے کی وجہ سے مرشد پاک سے یہ کہنا پڑا کہ دو طلاق دی ہیں، لیکن حقیقت میں ایک طلاق دی ہے، پھر عدالت سے میری غیر موجودگی میں میری بیوی کو خلع کی ڈگری جاری ہوگئی، لیکن اب ہم دونوں میاں بیوی ایک ساتھ اپنی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
اب ہمارے لیے شرعی حیثیت کیا ہے کیا ہم دونوں ساتھ رہ سکتے ہیں؟ جزاک اللہ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ طلاق کی جھوٹی خبر دینے سے قضاءً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا آپ نے اپنے پیر صاحب کو کہا کہ میں نے دو طلاقیں دی ہیں، اگر چہ حقیقتاً ایک ہی طلاق دی تھی، لیکن آپ کے اقرار کی وجہ سے آپ کی بیوی پر دو طلاقیں واقع ہوگئیں ہیں۔
نیز خلع دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر مالی معاملات معتبر ہونے کے لیے جانبین کی رضامندی ضروری ہے، اسی طرح خلع معتبر ہونے کے لیے بھی میاں بیوی کی رضامندی ضروری ہے، شوہر کی اجازت اور رضامندی کے بغیر اگر بیوی یکطرفہ خلع لے لے تو شرعاً ایسا خلع معتبر نہیں۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں عدالتی خلع واقع نہیں ہوا اور ذکر کردہ تفصیل کے مطابق دو طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، جس کا حکم یہ ہے کہ اگر عدت کے اندر رجوع کیا جائے تو نکاح برقرار رہتا ہے اور دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور عدت گزرنے کے بعد دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کےساتھ دوباره نکاح کیا جاسکتا ہے ، لیکن آئندہ کے لیے آپ کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار ہوگا۔

حوالہ جات

*البحر الرائق شرح کنز الدقائق:(264/3،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
لو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع كما لو أقر بالطلاق هازلا أو كاذبا كذا في الخانية من الإكراه.

*العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (1/ 40،ط: دار المعرفة)*
(سئل) في ‌رجل ‌سئل ‌عن ‌زوجته فقال أنا طلقتها وعديت عنها والحال أنه لم يطلقها بل أخبر كاذبا فما الحكم؟

*ردالمحتار:(236/3،ط: دار الفکر*
ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة. اهـ

*الهداية :(2/ 254،ط:دار احياء التراث العربي)*
وإذا طلق الرجل امرأته ‌تطليقة ‌رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض" لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها ".
(الجواب) : لا يصدق قضاء ويدين فيما بينه وبين الله تعالى وفي العلائي عن شرح نظم الوهبانية قال أنت طالق أو أنت حر وعنى به الإخبار كذبا وقع قضاء إلا إذا أشهد على ذلك. اهـ. وفي البحر الإقرار بالطلاق كاذبا يقع قضاء لا ديانة. اهـ. وبمثله أفتى الشيخ إسماعيل والعلامة الخير الرملي.

*بدائع الصنائع:(145/3،ط:دارالکتب العلمیة)*
"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة، ولايستحق العوض بدون القبول.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
27
فتوی نمبر 2087کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --