نماز قبول ہونے کی علامت

فتوی نمبر :
2112
عبادات / نماز /

نماز قبول ہونے کی علامت

سوال یہ ہے کہ ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ ہماری نمازیں قبول ہو رہی ہیں یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ دنیا میں نماز یا کسی بھی عبادت کے قبول ہونے کا حتمی علم کسی انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی شرعاً انسان اس کا مکلف ہے کہ اس کی تحقیق کرے، انسان پر صرف عمل کرنا لازم ہے، البتہ شریعتِ مطہرہ نے بعض شرائط اور آداب بیان فرمائے ہیں کہ اگر بندہ ان کی رعایت رکھے تو اللہ تعالیٰ سے عبادت کے قبول ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔
ان شرائط میں سب سے پہلے تصحیحِ عقیدہ ہے، یعنی عقیدہ درست ہو، پھر اخلاصِ نیت ہو، یعنی جو بھی عمل کیا جائے، خالص اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب کی نیت سے ہو، اس میں ریا، تکبر وغیرہ اور نفسانی اغراض شامل نہ ہوں۔ جو بھی عمل کرے، اس کا سنت اور شریعت کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ خلافِ سنت اور خلافِ شریعت عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں۔ مثلا نماز ہے تو اس کے فرائض، واجبات، سنن اور مستحبات کا اہتمام کیا جائے۔ اگر بندہ ان امور کا خیال رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کی نماز کے قبول ہونے کی قوی امید کی جا سکتی ہے۔

حوالہ جات

*القرآن الكريم: (الآية،2: 143)*
وَمَا كَانَ ٱللَّهُ ‌لِيُضِيعَ إِيمَٰنَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٞ o

*تفسير الجلالين: (30، ط: دار الحديث)*
{وما كان الله ليضيع إيمانكم} أي صلاتكم إلى بيت المقدس بل يثيبكم عليه لأن سبب نزولها السؤال عمن مات قبل التحويل {إن الله بالناس} المؤمنين {لرؤوف رحيم} في عدم إضاعة أعمالهم والرأفة شدة الرحمة وقدم الأبلغ للفاصلة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
31
فتوی نمبر 2112کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --