ہاتھ پر صمد بونڈ لگے ہونے کی صورت میں وضو کا حکم

فتوی نمبر :
2115
طہارت و نجاست / طہارت /

ہاتھ پر صمد بونڈ لگے ہونے کی صورت میں وضو کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
ایک مسئلہ پوچھنا ہے اگر کسی بندے کے ہاتھ پر صمد بونڈ وغیرہ لگ جائے تو کیا وضو میں اس کا ہٹانا ضروری ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ صمد بونڈ وغیرہ اگر ہاتھ پر لگی ہو تو وضو سے پہلے اسے اتارنا ضروری ہے، کیونکہ وہ پانی کے پہنچنے میں رکاوٹ بنتی ہے، البتہ اگر پوری کوشش کے باوجود مکمل نہ ہٹے اور زیادہ رگڑنے سے جلد کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو جتنا ممکن ہو اتار لینا کافی ہے، اس صورت میں وضو ہو جائے گا۔

حوالہ جات

*البحر الرائق:(14/1،ط: دارالکتاب الاسلامی)**
ولو لصق باصل ظفره طين يابس وبقى قدر راس ابرة من موضع الغسل لم يجز .

*الهندية:(4/1،ط: دارالفکر)*
في فتاوى ما وراء النهران بقى من موضع الوضوء قدر رأس ابرة او نزق باصل ظفرة طين يا بس او رطب لم يجز .

*ايضا:(4/1،ط: دارالفکر)*
وفي الجامع الصغير سئل ابو القاسم عن وافر الظفر الذي يبقى في اظفاره الدرن او الذى يعمل عمل الطين او المراة التي صبغت اصبعها بالحناء او الصرام او المصباغ فال كل ذلك سواء يجزيهم وضوءهم اذ لا يستطيع الامتناع عنه الا يجرح والفتوى عليه من غير فصل بين المدني والقروى.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
38
فتوی نمبر 2115کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --