مصلے میں اعتکاف،تروایح اور جمعہ وعیدین کی نماز کا حکم

فتوی نمبر :
2148
عبادات / نماز /

مصلے میں اعتکاف،تروایح اور جمعہ وعیدین کی نماز کا حکم

السلام علیکم
پلازے کے دوسرے فلور پر مسجد کے لیے ایک جگہ مختص کی ہے، یہاں پر پانچ وقت نمازیں ہوتی ہیں، پلازے سے باہر سے جو نمازی ہیں ان کو بھی اجازت مسجد میں آنے کی اجازت ہے، مسجد کے اندرونی حصے میں50 کے قریب افراد کی گنجائش ہے، بیسمنٹ میں مارکیٹ ہے اور ٹاپ پر ہوٹل تین منزلہ رہائش کے لیے ہے اور چار منزلہ دکانوں کے لیے ۔ ایسی مسجد میں جمعہ کی نماز درست ہے ؟تراویح اعتکاف نماز عید اور نماز جمعہ پڑھ سکتے ہیں ؟؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بڑی عمارتوں،کمپنیوں میں جو جگہیں نماز کے لیے خاص کی جاتی ہیں، وہ مستقل مسجدِ شرعی نہیں ہوتیں، ان پر مسجد کے احکام لاگو نہیں ہوتے، لہٰذا ان میں نماز پڑھنے سے مسجد کا ثواب نہیں ملتا اور نہ ہی ان میں اعتکاف درست ہوتا ہے،البتہ ان میں با جماعت نماز پڑھنا جائز ہے اور جماعت کا ثواب حاصل ہوگا، ایسی جگہوں کو مالک بیچ بھی سکتا ہے۔
عید کی نماز شعائر دین میں سے بنیادی شعار ہے،عید اور جمعہ کی نماز سے مقصود مسلمانوں کی شان و شوکت اور قوت کا اظہار ہے، اسی وجہ سے عید کی نماز عید گاہ میں پڑھنا مسنون ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلمان ایک جماعت میں شریک ہوسکیں، تاہم مصلے میں بھی عید اور جمعہ کی نماز اداکرنے سے نماز ہو جائے گی،لیکن ایسا کرنا سنت کے خلاف ہے ۔
تروایح کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کرنا سنت ہے، اگر کسی نے مصلے یا گھر میں بھی ادا کرلی تو تروایح ادا ہو جائے گی،مگر مسجد کے ثواب سے محروم رہ جائے گا، اس لیے تروایح کا اِہتمام مسجد میں کرنا چاہیے ۔

حوالہ جات

*الشامية:(355/4،ط: دارالفكر)*
(قوله: ويزول ملكه عن المسجد إلخ) اعلم أن المسجد يخالف سائر الأوقاف في عدم اشتراط التسليم إلى المتولي والمصلى) بالفعل و(بقوله جعلته مسجدا) عند الثاني (وشرط محمد) والإمام (الصلاة فيه)
عند محمد وفي منع الشيوع عند أبي يوسف، وفي خروجه عن ملك الواقف عند الإمام وإن لم يحكم به حاكم كما في الدرر وغيره.

*ملتقى الابحر:(595/1،ط: دار الكتب العلمية)*
وإن جعله لغير مصالحه أو جعل فوقه بيتا وجعل بابه إلى الطريق وعزله أو اتخذ وسط داره مسجدا وأذن بالصلاة فيه لا يزول ملكه عنه وله بيعه فيورث وعند أبي يوسف يزول ملكه بمجرد القول مطلقا ولو ضاق المسجد وبجنبه طريق العامة يوسع منه وبالعكس رباط استغنى.

*البحر الرائق:(271/5،ط: دارالكتاب الإسلامي)*
قوله ومن جعل مسجدا تحته سرداب أو فوقه بيت وجعل بابه إلى الطريق وعزله أو اتخذ وسط داره مسجدا وأذن للناس بالدخول فله بيعه ويورث عنه) لأنه لم يخلص لله تعالى لبقاء حق العبد متعلقا به والسرداب بيت يتخذ تحت الأرض لغرض تبريد الماء وغيره كذا في فتح القدير وفي المصباح السرداب المكان الضيق يدخل فيه والجمع سراديب. اهـ.
وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه.

*بدائع الصنائع:(275/1،ط: دارالفكر)*
قيل المراد منه صلاة العيد؛ ولأنها من شعائر الإسلام فلو كانت سنة فربما اجتمع الناس على تركها فيفوت ما هو من شعائر الإسلام فكانت واجبة صيانة لما هو من شعائر الإسلام عن الفوت.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
37
فتوی نمبر 2148کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --