جنت میں عورت کا مقام

فتوی نمبر :
2179
عقائد / /

جنت میں عورت کا مقام

مفتی صاحب !
جنت میں مرد کیلے حور اور غلمان ہونگے تو عورت کے لیے کیا ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جنت میں غلمان محض خدمت کے لیے ہوں گے، ان سے کسی اور نوعیت کا تعلق مقصود نہ ہوگا۔جو عورتیں دنیا میں شادی شدہ ہوں گی، وہ آخرت میں بھی اپنے انہی شوہروں کے ساتھ ہوں گی، بشرطیکہ شوہر بھی جنت کے مستحق ہوں،اور جو عورتیں دنیا میں غیر شادی شدہ رہیں ہوں، یا جن کا شوہر جنت میں نہ جا سکا ہو، انہیں اختیار دیا جائے گا کہ وہ جنت کے جس مرد کو پسند کریں، اس سے ان کی شادی کر دی جائے گی۔
اور اگر کوئی عورت کسی انسان کے ساتھ نکاح پر آمادہ نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اپنی قدرتِ کاملہ سے اس کے لیے خصوصی زوج پیدا فرمائیں گے اور اس کے ساتھ ان کی شادی فرما دی جائے گی۔

حوالہ جات

*تفسير ابن كثير:(292/8،ط:دار طيبة للنشر والتوزيع)*
وقوله تعالى: (ويطوف عليهم ولدان مخلدون إذا رأيتهم حسبتهم لؤلؤا منثورا) أي: يطوف على أهل الجنة للخدمة ولدان من ولدان الجنة (مخلدون) أي: على حالة واحدة مخلدون عليها، لا يتغيرون عنها.

*سنن الترمذي:(299/4،ط:دار الغرب الإسلامي)*
حدثنا سفيان بن وكيع، قال: حدثنا أبي ، عن فضيل بن مرزوق ، عن عطية ، عن أبي سعيد، عن النبي ﷺ قال: «إن أول زمرة يدخلون الجنة يوم القيامة ضوء وجوههم على مثل ضوء القمر» ليلة البدر، والزمرة الثانية على مثل أحسن كوكب دري في السماء، لكل رجل منهم زوجتان، على كل زوجة سبعون حلة يرى مخ ساقها من ورائها.

*مرقاة المفاتيح:(3589/9،ط:دار الفكر)*
وهذا لا ينافي أن يحصل لكل منهم كثير من الحور العين الغير البالغة إلى هذه الغاية، كذا قيل، والأظهر أن لكل زوجتان من نساء الدنيا، وإن أدنى أهل الجنة من له اثنتان وسبعون زوجة في الجملة، يعني: اثنتين من نساء الدنيا وسبعين من الحور العين، والله سبحانه وتعالى أعلم. (رواه الترمذي) . وكذا أحمد في مسنده.

*فتاویٰ محمودیہ:687/1،ط:دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی*
'عورتوں کوان کے خاوندملیں گے،جوان کے لیے انتہائی راحت کاذریعہ ہوں گے،کسی اورطرف ان کی نظرنہیں جائے گی بلکہ خیال بھی نہیں آئے گا۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
4
فتوی نمبر 2179کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 155