مرتد کو مہلت دینے کا حکم

فتوی نمبر :
2244
عقائد / /

مرتد کو مہلت دینے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان كرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بخاری شریف کی روایت ہےکہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا ہےکہ جو اپنا دین بدل دے اسے قتل کر دو جبکہ احناف کا نظریہ یہ ہے کہ مرتد کو فورا قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ اسی تین دن کی مہلت دی جائے گی اور ان تین دنوں میں اس کے اعتراضات کے جوابات دے کر اسے مطمئن کیا جائے گا اگر وہ تین دن میں مطمئن نہ ہو سکے تو پھر اسے قتل کیا جائے گا۔
پوچھنا یہ ہے کہ احناف کا یہ نظریہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے فرمان کے خلاف ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مرتد کوتین دن کی مہلت دینا ،اس کے اعتراضات کے جوابات دینا ،اسے مطمئن کرنا یہ بات بھی حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے مبارک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول اور ثابت ہے، اس لیے علمائے احناف پر یہ الزام لگانا کہ انہوں نے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی حدیث کی مخالفت کی ہے بالکل غلط ہے۔

حوالہ جات

المعجم الكبير للطبراني: (20/ 53، رقم الحديث : 93، ط: مكتبة ابن تيمية)
عن معاذ بن جبل، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له حين ‌بعثه ‌إلى ‌اليمن: أيما رجل ارتد عن الإسلام فادعه، فإن تاب فاقبل منه، وإن لم يتب فاضرب عنقه، وأيما امرأة ارتدت عن الإسلام فادعها، فإن تابت فاقبل منها، وإن أبت فاستتبها.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
6
فتوی نمبر 2244کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 155