احکام وراثت

والدہ ، تین بھائی اور چار بہنوں میں تقسیم میراث

فتوی نمبر :
2254
معاملات / ترکات / احکام وراثت

والدہ ، تین بھائی اور چار بہنوں میں تقسیم میراث

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے والد کا انتقال سات دسمبر 2019 کو ہوا، انتقال کے وقت ان کے نام دو گاڑیاں ایک کنال کا گھر اور 12 لاکھ روپے بینک بیلنس تھا اور جی پی فنڈ میں بھی تقریبا 50 لاکھ روپے کے قریب ملنا ہے ورثا میں ہماری والدہ تین بھائی اور چار بہنیں حیات ہیں ہم سات بہن بھائیوں میں سے تین بہنوں اور ایک بھائی کی شادی ہوئی ہے ایک بہن اور دو بھائیوں کی شادی باقی ہے اور ایک بھائی کی تعلیم بھی جاری ہے، میرے والد نے بینک میں جو پیسے رکھوائے ہیں ان کے لیے انہوں نے میری والدہ کو نامزد کیا ہے اب میرے والد کے انتقال کے بعد میرے والد کی ذمہ تین بچوں کی شادی ایک بھائی کے پڑھائی باقی ہے اب جو بھی انہوں نے وراثت میں چھوڑا اس میں سے ان کی ذمہ داریاں پوری کی جائے اور پھر وراثت تقسیم کی جائے یا پہلے وراثت تقسیم کی جائے برائے مہربانی تفصیلی جواب عنایت فرمائیں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والد نے جو بھی مال میراث میں چھوڑا ہے وہ مال سب بہن بھائیوں کا حق ہے لہذا میت کی تجہیز و تکفین قرض کی ادائیگی اور اگر کوئی وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں سے وصیت نافذ کر دینے کے بعد باقی کل مال کے 80 حصے ملیں گے ،جس میں سے مرحوم کی بیوہ کو دس ، ہر بیٹے کو چودہ اور ہر بیٹی کو سات حصے دیئے جائیں گے ۔
لہذا مذکورہ مال میں سے بیوی کو سات لاکھ پچھتر ہزار روپے ۔ ہر بیٹے کو دس لاکھ پچاسی ہزار اور پر بیٹی کو پانچ لاکھ بیالیس ہزار روپے ملیں گے ۔
اور اسی طرح گاڑیوں اور پلاٹ کی قیمت لگا کر اسی حساب سے تقسیم کی جائے گی ۔

حوالہ جات

القرأن الكريم : [النساء:/4 12]
فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۗ.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
5
فتوی نمبر 2254کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --