بدعات جنائز

تجہیز وتکفین میں شریک رشتہ داروں کو کھانا کھلانا میت کے ورثا پر لازم نہیں

فتوی نمبر :
2258
عبادات / جنائز / بدعات جنائز

تجہیز وتکفین میں شریک رشتہ داروں کو کھانا کھلانا میت کے ورثا پر لازم نہیں

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر میت کے رشتہ دار اس کی تجہیز و تکفین میں شریک ہوں ،تو تجہیز و تکفین سے فراغت کے بعد میت کے گھر والوں پر ان رشتہ داروں کو کھانا کھلانا لازم ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ میت کے جو رشتہ دار تجہیز و تکفین اور تدفین کے معاملات میں مصروف ہے فراغت کے بعد انہیں چاہیے کہ اپنے اپنے گھروں میں جا کر کھانا کھا لیں ،میت کے گھر والوں پر ان کو کھاناکھلانا لازم نہیں ،البتہ اگر ورثہ کے ساتھ مل کر کھانا کھائیں تو اس کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

الشامية : (2/ 241، ط: دارالفكر)
وقال كثير من متأخري أئمتنا يكره الاجتماع ‌عند ‌صاحب ‌البيت ويكره له الجلوس في بيته حتى يأتي إليه من يعزي، بل إذا فرغ ورجع الناس من الدفن فليتفرقوا ويشتغل الناس بأمورهم وصاحب البيت بأمره اهـ.

الإبداع في مضار الابتداع: (ص229، ط:دارالاعتصام )
ينبغى ‌أن ‌يلح ‌عليهم ‌في ‌الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون، ولا يصلح الطعام لمن يجتمع عند أهل الميت، بل يكره لأنَّه إعانة على مكروه وهو الاجتماع عندهم. قال الإمام أحمد: هو من فعل الجاهلية وأنكره شديدًا. وللإمام أحمد وغيره وإسناده ثقات عن جرير بن عبد اللّه قال: "كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام بعد دفنه من النياحة". وكذا يكره فعل أهل الميت ذلك الطعام للناس يجتمعون عندهم لما مر.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
4
فتوی نمبر 2258کی تصدیق کریں