احکام وراثت

دو بیٹیوں میں تقسیم میراث

فتوی نمبر :
2261
معاملات / ترکات / احکام وراثت

دو بیٹیوں میں تقسیم میراث

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کا انتقال ہو گیا ہے اور اس کے ورثا میں صرف دو بیٹیاں ہیں اور وہ بھی شادی شدہ ہیں اس کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں ہے مرحوم نے ترکہ میں ایک گھر چھوڑا ہے
برائے کرم رہنمائی فرمائی کہ وہ گھر دونوں بیٹیوں کی درمیان کس طرح تقسیم ہوگا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں جب ورثا میں صرف دو بیٹیاں ہی ہیں ان کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں ہے نہ ذوی الفروض میں سے اور عصبات میں سے تو اس مسئلے میں رد کی صورت بنے گی اور سارا مال ان دونوں بیٹیوں میں برابر برابر تقسیم ہوگا۔

حوالہ جات

الدرالمختار : (6/ 788، ط: دارالفكر)
ثم‌‌ مسائل الرد أربعة أقسام، ‌لأن ‌المردود ‌عليه إما صنف أو أكثر وعلى كل إما أن يكون من لا يرد عليه أو لا يكون.
(ف) الأول (إن اتحد جنس المردود عليهم) كبنتين أو أختين أو جدتين (قسمت المسألة من عدد رءوسهم) ابتداء قطعا للتطويل.

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: (10/ 7828، ط: دارالفكر)
الأول - أن يكون الموجود في المسألة ‌صنفاً ‌واحداً ممن يرد عليه، وليس معهم من لا يرد عليه من أحد الزوجين:فيجعل أصل المسألة بقدر عدد رؤوسهم؛ لأن جميع المال لهم بالفرض والرد معاً، فيقسم على عدد الرؤوس.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
3
فتوی نمبر 2261کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --