ایک عورت کہتی ہے کہ میرے اور میرے بھائی کی مشترکہ وراثتی زمین تھی میں نے اپنا حق مانگا تو میرے شوہر نے مجھے حق لینے سے منع کر دیا، پھر میرے بھائی نے وہ زمین بیچ دی اور میرے شوہر نے اس وقت بھی مجھے اپنا حق لینے سے منع کیا، اب پندرہ (15) سال بعد میرے شوہر نے مجھے اجازت دے دی ہے۔
تو کیا اب میں اپنا حق طلب کر سکتی ہوں یا نہیں؟اگر میرا حق بنتا ہے تو میں کس سے مطالبہ کر سکتی ہوں،اپنے بھائی سے یا خریدار سے؟
اور کیا شوہر کی طرف سے مجھے روکنا (منع کرنا) شرعی لحاظ سے جبر و اکراہ شمار ہوتا ہے یا نہیں؟"
واضح رہے کہ حق وراثت ایک جبری حق ہے، جو ساقط کرنے سے بھی ساقط نہیں ہوگا، البتہ اپنا حصہ وصول کرلینے کے بعد وارث کسی کو بھی دینا چاہے تو دے سکتا ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ بھائی سے اپنے حق کا مطالبہ کرسکتی ہیں اور یہ مطالبہ اپنے بھائی سے ہوگا نہ کہ خریدار سے اور شوہر کا آپ کو اپنا حق وصول کرنے سے منع کرنا جائز نہیں۔
*الأشباه والنظائر: (272،ط:دار الكتب العلمية)*
لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك، والحق يبطل به حتى لو أن أحدا من الغانمين قال قبل القسمة: تركت حقي بطل حقه..
*تكملة حاشية ابن عابدين: (8/ 208،ط:دارالفکر)*
وفيها: ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان الارث جبري لا يصح تركه اهـ..