احکام رمضان

حاملہ عورت کا روزہ نہ رکھنا

فتوی نمبر :
2281
عبادات / روزہ و رمضان / احکام رمضان

حاملہ عورت کا روزہ نہ رکھنا

السلام عليكم ورحمۃ اللّہ وبرکاتہ امید ہے سب خیریت سے ہوں گے
مفتی صاحب
ایک مسئلہ پوچھنا تھاعورت حاملہ ہے اور اس کا ساتواں مہینہ ہے، اس کو بھوک بہت زیادہ لگتی ہے اور پیٹ میں درد رہتا ہے، کیا اس کے لیے روزہ چھوڑنا صحیح ہے اور اگر رکھ لے پھر درد ہو جائے تو کیا روزہ توڑ سکتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر حاملہ عورت کو ماہر اور دیندار ڈاکٹر یہ بتائے کہ روزہ رکھنے سے ان کی یا بچے کی جان کو خطرہ ہے تو ایسی صورت میں اس کے لیے روزہ نہ رکھنا جائز ہے، اگر روزہ رکھا ہے تو روزہ توڑنا بھی جائز ہے، البتہ بعد میں جب حالت بہتر ہو جائے تو وہ ان روزوں کی قضا کرے گی۔

حوالہ جات

*سنن ابن ماجة:(576/2،رقم الحديث: 1668،ط:دار الرسالة العالمية)*
حدثنا هشام بن عمار الدمشقي، حدثنا الربيع بن بدر، عن الجريري، عن الحسن عن أنس بن مالك، قال: رخص رسول الله - ﷺ - للحبلى التي تخاف على نفسها أن تفطر، وللمرضع التي تخاف على ولدها.

*حاشية الطحطاوي:(684/1،ط:دار الكتب العلمية)*
قوله:»ويجوز الفطر لحامل«هي التي في بطنها حمل بفتح الحاء أي ولد والحاملة التي على رأسها أو ظهرها حمل بكسر الحاء نهر .

*تبيين الحقائق:(336/1،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
(وللحامل والمرضع إن خافتا على الولد أو النفس) أي لهما الفطر (قوله وللحامل والمرضع إلخ) أي وللحامل الفطر أيضا.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
4
فتوی نمبر 2281کی تصدیق کریں