مسائل قربانی

دُم کٹے جانور کی قربانی کا حکم

فتوی نمبر :
2426
عبادات / قربانی و ذبیحہ / مسائل قربانی

دُم کٹے جانور کی قربانی کا حکم

مفتی صاحب!
جس جانور کی دم کٹی ہوئی ہو، اس جانور کی قربانی کا کیا حکم ہے؟
کیا اس کی قربانی جائز اور صحیح ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قربانی کے جانور میں شریعت نے بعض عیوب کو مانعِ قربانی قرار دیا ہے، لہٰذا اگر کسی جانور کی دُم کا تہائی یا اس سے زیادہ حصہ کٹا ہوا ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں، اسی طرح جو جانور پیدائشی طور پر دُم سے محروم ہو، اس کی قربانی بھی درست نہیں ،البتہ اگر دُم کا تھوڑا سا حصہ (تہائی سے کم) کٹا ہو تو اس صورت میں قربانی جائز ہے۔

حوالہ جات

*كنز الدقائق:(603/1،ط:دار السراج)*
ويضحّي بالجمّاء والخصيّ والثّولاء
لا بالعمياء والعوراء والعجفاء والعرجاء ومقطوع أكثر الأذن أو الذّنب أو العين أو الألية.

*الشامية:(323/6،ط: دارالفكر)*
قوله ومقطوع أكثر الأذن إلخ) في البدائع: لو ذهب بعض الأذن أو الألية أو الذنب أو العين. ذكر في الجامع الصغير إن كان كثيرا يمنع، وإن يسيرا لا يمنع. واختلف أصحابنا في الفاصل بين القليل والكثير؟ فعن أبي حنيفة أربع روايات. روى محمد عنه في الأصل والجامع الصغير أن المانع ذهاب أكثر من الثلث، وعنه أنه الثلث، وعنه أنه الربع، وعنه أن يكون الذاهب أقل من الباقي أو مثله اهـ بالمعنى والأولى هي ظاهر الرواية، وصححها في الخانية حيث قال: والصحيح أنه الثلث، وما دونه قليل، وما زاد عليه كثير وعليه الفتوى اهـ ومشى عليها في مختصر الوقاية والإصلاح. والرابعة هي قولهما قال في الهداية. وقالا: إذا بقي الأكثر من النصف أجزأه، وهو اختيار الفقيه أبي الليث، وقال أبو يوسف: أخبرت بقولي أبا حنيفة فقال قولي هو قولك، قيل هو رجوع منه إلى قول أبي يوسف، وقيل معناه قولي قريب من قولك.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
2
فتوی نمبر 2426کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --