مسائل قربانی

قربانی کے بعد جانور میں عیب کا ظاہر ہونا

فتوی نمبر :
2442
عبادات / قربانی و ذبیحہ / مسائل قربانی

قربانی کے بعد جانور میں عیب کا ظاہر ہونا

مفتی صاحب!
قربانی کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ جانور میں عیب تھا تو قربانی کا حکم کیا ہے؟
قربانی ہو جائے گی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر قربانی کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ جانور میں ایسا عیب موجود تھا جس کی وجہ سے قربانی درست نہیں ہوئی تو اس کا حکم قربانی کرنے والے کی حیثیت کے مطابق مختلف ہوگا۔
اگر قربانی کرنے والا غریب تھا، یعنی اس پر قربانی واجب نہیں تھی اور اس نے نفلی طور پر قربانی کی تھی تو اس پر کچھ لازم نہیں ہوگا، لیکن اگر وہ صاحبِ نصاب (مال دار) تھا، جس پر قربانی واجب تھی تو اب اس کے لیے ایک متوسط درجے کے بکرے یا بھیڑ کی قیمت صدقہ کرنا ضروری ہوگا۔

حوالہ جات

*الهندية:(296/5،ط: دارالفكر)*
ولو لم يضح حتى مضت أيام النحر فقد فاته الذبح فإن كان أوجب على نفسه شاة بعينها بأن قال: لله علي أن أضحي بهذه الشاة سواء كان الموجب فقيرا أو غنيا، أو كان المضحي فقيرا وقد اشترى شاة بنية الأضحية فلم يفعل حتى مضت أيام النحر تصدق بها حية، وإن كان من لم يضح غنيا ولم يوجب على نفسه شاة بعينها تصدق بقيمة شاة اشترى أو لم يشتري، كذا في العتابية.

*العناية شرح الهداية:(513/9،ط:دار الفكر)*
(لو لم يضح حتى مضت أيام النحر إن كان أوجب على نفسه) بأن عين شاة فقال: لله علي أن أضحي بهذه الشاة سواء كان الموجب فقيرا أو غنيا (أو كان) المضحي (فقيرا وقد اشترى شاة بنية الأضحية تصدق بها حية وإن كان) من لم يضح (غنيا) ولم يوجب على نفسه شاة بعينها (تصدق بقيمة).

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
2
فتوی نمبر 2442کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --