"میں جہنم سے نہیں ڈرتا" کہنے سے ایمان و نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
2456
عقائد / /

"میں جہنم سے نہیں ڈرتا" کہنے سے ایمان و نکاح کا حکم

گھر میں کچھ مسائل کی وجہ سے مجھے غصہ آ گیا، اسی دوران والدہ نے مجھ سے کہا:کیا تم جہنم سے نہیں ڈرتے؟ تو میرے منہ سے (غصے میں) یہ الفاظ نکل گئے: نہیں،
اس کا کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں اگر دل میں جہنم اور آخرت کا انکار مقصود نہ تھا تو یہ کلمہ کفر شمار نہیں ہوگا اور نہ ہی نکاح پر کوئی اثر ہوگا، البتہ ایسے الفاظ نہایت خطرناک ہیں، اس لیے آپ سچے دل سے توبہ و استغفار کریں، آئندہ اپنی زبان کی حفاظت کریں اور والدہ سے معافی بھی مانگیں۔

حوالہ جات

*البحر الرائق:(29/4،ط: دار الكتاب الاسلامي)*
وهل تكفر المرأة بقولها أنا أحب عذاب جهنم، وأكره الجنة قلت ظاهر كلامهم هنا عدمه.

*الشامية:(360/3،ط: دارالفكر)*
وظاهر كلامهم هنا أنها لا تكفر بقولها أنا أحب عذاب جهنم وأكره الجنة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
1
فتوی نمبر 2456کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 158