اولاد کے حقوق

محتاج بیٹے کی مالی مدد کرنا

فتوی نمبر :
2470
معاشرت زندگی / حقوق و فرائض / اولاد کے حقوق

محتاج بیٹے کی مالی مدد کرنا

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب!
ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے وہ یہ کہ میرا ایک دوست ایک کمپنی میں ملازمت کرتا تھا۔ ملازمت کے دوران اس کی تنخواہ سے پروویڈنٹ فنڈ (PF) کٹتا رہا اور کمپنی کی طرف سے بھی اس میں رقم شامل کی جاتی رہی۔ جب وہ ریٹائر ہوا تو اسے اس کا مکمل فنڈ مع کمپنی کے اضافی حصے کے ملا، جو تقریباً ایک سے ڈھائی لاکھ روپے بنتا ہے۔
اب صورتِ حال یہ ہے کہ اس کے ایک بیٹے کی آمدنی تقریباً 18 سے 20 ہزار روپے ماہانہ ہے اور وہ کچھ مشکلات کے ساتھ گھر کا خرچ چلا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا وہ شخص اپنے ریٹائرمنٹ کے ملنے والے پیسوں میں سے اپنے بیٹے کو مالی مدد کے طور پر دے سکتا ہے؟
اور وہ یہ رقم اپنے بیٹے کو اس کی مدد کے لیے بغیر نیتِ ثواب (صدقہ کی نیت کے بغیر) دینا چاہتا ہے، کیا ایسا کرنا شرعاً درست ہوگا؟
براہِ کرم اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً
تنقیح:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرت پراویڈنٹ فنڈ میں بعض کمپنیاں اپنے ملازمین کو جبراً اس فنڈ کا حصہ بناتی ہیں، جبکہ بعض کمپنیاں اختیار دیتی ہیں، آپ اس بات کی وضاحت کر دیں کہ آپ سے کاٹی جانے والی رقم کس طور پر تھی کیا یہ زبردستی کاٹی جاتی تھی یا اختیاری تھی؟

جواب تنقیح:
پراویڈنٹ فنڈ کے حوالے سے عرض ہے کہ یہ زبردستی (جبری) نہیں ہوتا، بلکہ اختیاری (اختیاری) ہوتا ہے، اگر کوئی ملازم انفرادی طور پر (سنگولر صورت میں) دیکھے تو اس کے لیے اس میں شامل ہونا اختیار پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ جبر پر۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ریٹائرمنٹ کے وقت ملنے والا پروویڈنٹ فنڈ (خواہ وہ اپنی تنخواہ سے کٹا ہوا ہو یا کمپنی کی طرف سے شامل کیا گیا ہو) اصولاً ملازم کی ملکیت ہوتا ہے، لہٰذا وہ فنڈ حلال ہے اور وہ اس میں تصرف کا مکمل حق رکھتا ہے۔
پوچھی گئی صورت میں اگر وہ اپنے بیٹے کو اس رقم میں سے بطورِ مالی مدد کچھ دینا چاہے تو شرعاً یہ بالکل جائز ہے، بلکہ اولاد پر خرچ کرنا اور اس کی مدد کرنا باعثِ اجر بھی ہے، اس کے لیے صدقہ کی نیت کرنا ضروری نہیں، بغیر نیتِ صدقہ کے بھی بطورِ ہدیہ دینا درست ہے۔

حوالہ جات

*سنن الترمذي:(96/3،رقم الحديث:1425،ط: دار الغرب الإسلامي)*
حدثنا قتيبة، قال: حدثنا أبو عوانة ، عن الأعمش ، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: «من نفس» عن مؤمن كربة من كرب الدنيا نفس الله عنه كربة من كرب الآخرة، ومن ستر على مسلم ستره الله في الدنيا والآخرة، والله في عون العبد ما كان العبد في عون أخيه.

*السنن الكبرى للبيهقي:(298/4،رقم الحديث:7757،ط: دار الكتب العلمية)*
أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، ثنا أبو بكر بن إسحاق إملاء، ثنا يوسف بن يعقوب، ثنا سليمان بن حرب، وعارم، وأبو الربيع، ومحمد بن عبيد، ومسدد، ومحمد بن أبي بكر، قالوا: ثنا حماد بن زيد، ثنا أيوب، عن أبي قلابة، عن أبي أسماء، عن ثوبان، قال: قال رسول الله ﷺ: «أفضل دينار ينفقه الرجل دينار ينفقه على عياله، دينار ينفقه الرجل على دابته في سبيل الله، دينار ينفقه الرجل على أصحابه في سبيل الله» قال أبو قلابة: وبدأ بالعيال، فأي رجل أعظم أجرا من رجل ينفق على عيال صغار يقوتهم الله وينفعهم به.

*مرقاة المفاتيح:(1351/4،ط: دار الفكر)*
(وعن ثوبان قال: قال رسول الله - ﷺ -:»أفضل دينار «) يراد به العموم (» «ينفقه الرجل دينار ينفقه على عياله، ودينار ينفقه على دابته» «) أي دابة مربوطة (» في سبيل الله «) من نحو الجهاد (» ودينار ينفقه على أصحابه ") أي حال كونهم مجاهدين (في سبيل الله) يعني: الإنفاق على هؤلاء الثلاثة على الترتيب أفضل من الإنفاق على غيرهم، ذكره ابن الملك، ولا دلالة في الحديث على الترتيب، لأن الواو لمطلق الجمع، إلا أن يقال: الترتيب الذكري الصادر من الحكيم لا يخلو عن حكمه، فالأفضل ذلك، إلا أن يوجد مخصص، ولذا قال - ﷺ -: «ابدءوا بما بدأ الله - تعالى - به، ﴿إن الصفا والمروة من شعائر الله﴾

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
3
فتوی نمبر 2470کی تصدیق کریں