مفتی صاحب ! کیا اہل بیت یعنی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد کا واسطہ دے کر دعا مانگ سکتے ہی؟
واضح رہے کہ نیک اعمال اور اللہ کے نیک بندوں کے وسیلہ سے دعا مانگنا جائز ہے، جیسا انبیاء کرام علیہم السلام کے وسیلہ سے دعا مانگنا جائز ہے، اسی طرح انبیاء کرام کے علاوہ دیگر اللہ کے نیک بندے جیسے صحابہ کرام، تابعین ، تبع تابعین یا دیگر بزرگان دین کے وسیلہ سے دعا مانگنا بھی جائز ہے، لہذا حضرت فاطمہ کی اولاد کے وسیلہ سے دعا مانگنا جائز ہے، البتہ دعا کی قبولیت کے لیے وسیلہ کو واجب یا ضروری سمجھنا یا توسل والی دعا کی قبولیت کا اللہ کے ذمے لازم سمجھنا درست نہیں ہے۔
*صحيح البخاري: (رقم الحدیث:3710،ط:دار طوق النجاة)* عن أنس رضي الله عنه: «أن عمر بن الخطاب: كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب، فقال: اللهم إنا كنا نتوسل إليك بنبينا صلى الله عليه وسلم فتسقينا، وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا، قال: فيسقون. *فتح الباري:(2/ 497، ط :دارالمعرفة)* ويستفاد من قصة العباس استحباب الاستشفاع بأهل الخير والصلاح وأهل بيت النبوة، وفيه فضل العباس وفضل عمر لتواضعه للعباس ومعرفته بحقه.