السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب میرے ایک عزیز کی بیوی کو طلاق ہو گئی، اس کا مہر چھ لاکھ تھا، اس کے بعد ہم نے دو تولہ سے زیادہ زیور دیے تھے، جو کہ اس کے پاس ہیں، ہمارے علاقے کا عرف ہے ،کہ جب کسی عورت کو طلاق ہو جائے تو مہر کے علاوہ زیورات لڑکی کو واپس کرنے ہوتے ہیں، اب وہ عدالت میں مقدمہ کیے ہوئے ہے، کہ یہ زیورات میرے ہیں، اس بارے میں ہماری رہنمائی فرمائیں کہ یہ زیورات ہمیں ملیں گے،یا مطلقہ عورت کو؟
سسرال کی طرف سے دیے گئے زیورات کا حکم نیت اور عرف پر موقوف ہوتا ہے، اگر دیتے وقت واضح طور پر لڑکی کو مالک بنایا گیا ہو تو وہ زیورات اسی کی ملکیت ہوں گے، اور اگر صرف استعمال کے لیے دیے گئے ہوں تو اصل مالک لڑکے والے ہی رہیں گے۔ البتہ اگر دیتے وقت کوئی صراحت نہ کی گئی ہو تو اس صورت میں سسرال کے عرف و رواج کو دیکھا جائے گا، اگر وہاں عام رواج عاریت (یعنی وقتی استعمال) کا ہو تو زیورات واپس لیے جا سکتے ہیں، اور اگر رواج ملکیتا دینے کا ہو یا کوئی خاص رواج نہ ہو تو وہ زیورات لڑکی کی ملکیت شمار ہوں گے اور انہیں واپس لینا درست نہیں۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ کے بیان کے مطابق آپ کے ہاں رواج اس طرح کی صورتحال میں مہر کے علاوہ دیے گئے زیورات واپس لینے کا ہیں ہے، لہذا آپ زیورات لڑکی سے واپس لے سکتے ہیں ۔
*الشامية:(153/3،ط: دارالفكر)* ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا. *أيضاً:(157/3،ط: دارالفكر)* والمعتمد البناء على العرف كما علمت، *شرح عقود رسم المفتي: (37 کتب خانہ قدیمی)* والعرف في الشرع له اعتبار لذا عليه الحكم قد يدار