السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت! ہمارے ادارے میں چوری ہوئی تو ادارے کے منتظمین نے تمام لوگوں کو بلا کر سب سے قسم لی ۔ کیا چوری کو ثابت کرنے کے لیے تمام لوگوں سے قسم لینا درست ہے؟
اسلام میں کسی کو چور ثابت کرنے کے لیے واضح اور منضبط اصول مقرر ہیں، شرعاً چوری اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب یا تو خود ملزم اپنے جرم کا اقرار کرے، یا معتبر گواہوں کے ذریعے جرم ثابت ہو جائے،ان دو طریقوں کے علاوہ کسی کو چور قرار دینا یا اس پر الزام لگانا درست نہیں۔ بعض جگہ کچھ اداروں یا محلے میں چوری ہونے پر تمام افراد کو مسجد میں جمع کر کے قرآن ہاتھ میں یا سر پر رکھوا کر قسم لی جاتی ہے ،یہ طریقہ شرعاً درست نہیں۔
*سنن الترمذي:(18/3،رقم الحديث:1341،ط:دار الغرب الإسلامي)* حدثنا علي بن حجر، قال: حدثنا علي بن مسهر وغيره ، عن محمد بن عبيد الله ، عن عمرو بن شعيب ، عن أبيه ، عن جده أن النبي ﷺ قال في خطبته: «البينة على المدعي،» واليمين على المدعى عليه. *بدائع الصنائع :(225/6،ط:دار الكتب العلمية)* وأما حجة المدعي والمدعى عليه فالبينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه لقوله - عليه الصلاة والسلام - «البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه» جعل - عليه الصلاة والسلام - البينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه والمعقول كذلك لأن المدعي يدعي أمرا خفيا فيحتاج إلى إظهاره وللبينة قوة الإظهار لأنها كلام من ليس بخصم فجعلت حجة المدعي واليمين.