السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! ہم نے ایک جانور پسند کیا ہے قربانی کے لیے، لیکن ہمارے پاس رقم پوری نہیں ،اگر ہم کچھ رقم نقد اور کچھ قربانی کے بعد دیں تو ہماری قربانی میں کوئی فرق تو نہیں آئے گا؟
جس جانور کا انسان مالک بن جاتا ہے، اُس کی قربانی جائز ہے، خواہ وہ جانور نقد رقم سے خریدا گیا ہو، اُدھار لیا گیا ہو یا قسطوں پر۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں ادھار پر خریدے گئے جانور کی قربانی درست ہے۔
*مجلة الأحكام العدلية:(المادۃ:245،ص:50 مكتبة نور محمد )* (المادة 245) البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح (المادة 246) يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط (المادة 247) إذا عقد البيع على تأجيل الثمن إلى كذا يوما أو شهرا أو سنة أو إلى وقت معلوم عند العاقدين كيوم قاسم أو النيروز صح البيع (المادة 248) تأجيل الثمن إلى مدة غير معينة كإمطار السماء يكون مفسدا للبيع. *فقه البيوع:(1/525، ط:معارف القرأن كراچي)* وكما يجوز ضرب الاجل لاداء الثمن دفعة واحدة كذالك يجوز ان يكون اداء الثمن باقساط ،بشرط ان تكون أجال الاقساط ومبالغها معينة عندالعقد.