السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! ہمارے بھائی نے کسی شخص کو پیسے قرض دیے ہیں، لیکن اس نے ابھی تک واپس نہیں کیے ، کیا اس رقم کو نصاب کے پیسوں میں شمار کیا جائے گا ؟
جس شخص نے کسی کو قرض دیا ہو، اُس رقم کا مالک شرعاً قرض دینے والا ہی شمار ہوتا ہے، لہٰذا اگر قرض کی رقم دوسرے اموال کے ساتھ مل کر نصابِ قربانی کو پہنچتی ہو اور قرض کی واپسی کی امید بھی ہو تو ایسے شخص پر قربانی واجب ہوگی۔ البتہ اگر اُس کے پاس فی الحال نقد رقم موجود نہ ہو، نہ ہی ضرورت سے زائد ایسا سامان ہو جسے فروخت کر کے قربانی کرسکے اور مقروض بھی ایامِ قربانی میں اتنی رقم واپس دینے پر آمادہ نہ ہو، جس سے قربانی ہوسکے تو ایسی صورت میں اُس شخص پر قرض لے کر قربانی کرنا واجب نہیں۔
*الشامیة: (6/ 312،ط: دارالفکر)* وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر)۔۔۔(قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية، ولو له عقار يستغله فقيل: تلزم لو قيمته نصاباً، وقيل: لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل: قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفاً، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم. *البحر الرائق: (8/ 200،ط:دار الكتاب الإسلامي)* ووقتها ثلاثة أيام أولها أفضلها، ويجوز الذبح في لياليها إلا أنه يكره لاحتمال الغلط في الظلمة وأيام النحر ثلاثة.. *الهندية:(292/5،ط: دارالفكر)* وكذا لو كان له مال غائب لا يصل إليه في أيامه، ولا يشترط أن يكون غنيا في جميع الوقت حتى لو كان فقيرا في أول الوقت، ثم أيسر في آخره تجب عليه، ولو كان له مائتا درهم فحال عليها الحول فزكى خمسة دراهم، ثم حضر أيام النحر وماله مائة وخمسة وتسعون لا رواية فيه، ذكر الزعفراني أنه تجب عليه الأضحية؛ لأنه انتقص بالصرف إلى جهة هي قربة فيجعل قائما تقديرا، حتى لو صرف خمسة منها إلى النفقة لا تجب.