کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے یہ کہہ دیا تھا کہ اگر اللّہ تعالیٰ مجھے بہت امیر کر دے تو میں مسجد بناؤں گا ، میری عمر ابھی اکیس سال ہے اور میں پڑھ رہا ہوں، میرا ان باتوں سے ارادہ یہ تھا کہ جو ہو سکے گا کر دوں گا، نہیں تو اللہ معاف کر دے گا، اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟
واضح رہے کہ نذر کے صحیح ہونے کے لیے لازم ہے کہ جس چیز کی نذر مانی جائے، اس کی جنس میں سے کوئی فرض یا واجب ہو، مثلاً نماز روزہ حج وغیرہ، مسجد بنوانا فرض یا واجب نہیں، اس لیے یہ نذر پوری کرنا ضروری نہیں ہے، البتہ اگر مالی وسعت ہو تو مسجد تعمیر کرلی جائے یا جہاں مسجد تعمیر ہو رہی ہو اس میں اپنی گنجائش کے مطابق حصہ شامل کر لیا جائے ، کیونکہ یہ بہت بڑے اجر و ثواب کا کام ہے ۔
*مسند أبي داود:(1/ 369،ط:دار هجر)* 463 - حدثنا أبو داود ، قال: حدثنا قيس ، عن الأعمش ، عن إبراهيم التيمي ، عن أبيه ، عن أبي ذر ، قال: «من بنى لله عز وجل مسجدا ولو كمفحص قطاة بنى الله له بيتا في الجنة. *الدر المختار:(335/3،ط: دارالفكر)* (ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب) أي فرض كما سيصرح به تبعا للبحر والدرر (وهو عبادة مقصودة) خرج الوضوء وتكفين الميت (ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر) لحديث «من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى» (كصوم وصلاة وصدقة) ووقف (واعتكاف) وإعتاق رقبة وحج ولو ماشيا فإنها عبادات مقصودة، ومن جنسها واجب لوجوب العتق في الكفارة والمشي للحج على القادر من أهل مكة.