کیا فرماتے مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ مجھے (عمران خان )کو میرے نانا نے گود لیا تھا۔ میری پرورش انہوں نے کی۔ سرکاری کاغذات شناختی کارڈ سب جگہ پر میرے والد کی جگہ پر میرے نانا کا نام ہے، جس کی وجہ سے سرکاری ریکارڈ میں مجھے ان کا وارث شمار کیا جا رہا ہے،جب کہ حقیقت میں مَیں ان کا نواسا ہو اور ان کے ورثاء میں انتقال کے وقت ایک بیوہ، دو بیٹیاں،ایک بہن اور ایک بھائی موجود تھے،جس میں سے بہن کا انتقال ہوچکا ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ وراثت ان میں کیسے تقسیم ہوگی ؟اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق مجھے بھی وارث شمار کر کے حصہ دیا جا رہا ہے مجھے جو حصہ ملےگا وہ ان کے درمیان کیسے تقسیم ہوگا جب کہ میں مرحوم کا حقیقی وارث نہیں ہو وہ میرے نانا تھے ؟ مجھے زمین میں ملنے والا حصہ ورثاء میں کیسے تقسیم ہوگا قیمت لگا کر یا زمین کو الگ الگ کر تقسیم کیا جائے ؟
پوچھی گئی صورت میں میت کی تجہیز و تکفین اور تہائی مال میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل مال کے چوبیس حصے کیے جائیں گے، جس میں سے تین حصے مرحوم کی بیوی کو دیےجائیں گے اور مرحوم کی ہربیٹی کو آٹھ،آٹھ حصے دیے جائیں گے اور پانچ حصے مرحوم کے بھائی کو دیے جائیں گے اور مرحوم کی بہن کو کچھ نہیں ملے گا ۔ نیز شرعی طور پر مرحوم کے ذوی الفروض اور عصبہ کے ہوتے ہوئے ذوی الارحام کو حصہ نہیں ملتا اور آپ ذوی الارحام میں سے ہیں، جب کہ مرحوم کے ذوی الفروض موجود ہیں، اس لیے آپ کو شرعاً نانا کی میراث سے حصہ نہیں ملے گا۔
*القرآن الکریم:[النساء4: 12]* ﴿۞ وَلَكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ أَزۡوَٰجُكُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٞۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٞ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡنَۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصِينَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۚ وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّكُمۡ وَلَدٞۚ فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۗ وَإِن كَانَ رَجُلٞ يُورَثُ كَلَٰلَةً أَوِ ٱمۡرَأَةٞ وَلَهُۥٓ أَخٌ أَوۡ أُخۡتٞ فَلِكُلِّ وَٰحِدٖ مِّنۡهُمَا ٱلسُّدُسُۚ فَإِن كَانُوٓاْ أَكۡثَرَ مِن ذَٰلِكَ فَهُمۡ شُرَكَآءُ فِي ٱلثُّلُثِۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصَىٰ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٍ غَيۡرَ مُضَآرّٖۚ وَصِيَّةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٞ ١٢﴾ *الهندية:(6,/446/ 451/ 458،ط:دارالفکر)* "الفرائض جمع فريضة من الفرض وهو في اللغة التقدير والقطع والبيان وفي الشرع ما ثبت بدليل مقطوع به. وهم كل من ليس له سهم مقدر ويأخذ ما بقي من سهام ذوي الفروض وإذا انفرد أخذ جميع المال. وذوو الأرحام كل قريب ليس بذي سهم ولا عصبة." *السراجي:(ص:5،ط:مكتبة البشرى)* قال علماؤنا له : تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبة: الأول: يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير ولا تقتير، ثم تقضى ديونه من جميع بقي من ماله، ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين، ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب السنة وإجماع الأمة.