کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کا انتقال ہوا اس کے ورثا میں ایک بیوہ، تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، ان کے درمیان میراث کیسے تقسیم ہوگی ؟
واضح رہے کہ میت کی تجہیز و تکفین، قرض کی ادائیگی اور اگر وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں وصیت نافذ کر دینے کے بعد باقی قابل تقسیم جائیداد کو اسی (80) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے مرحوم کی بیوہ کو دس (10) ، ہر ایک بیٹے کو چودہ (14) اور ہر ایک بیٹی کو سات (7)حصے ملیں گے۔
*القرأن الكريم :[النساء:/4 11]* ﴿يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ﴾ *ايضا : [النساء:/4 12]* ﴿۞ وَلَكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ أَزۡوَٰجُكُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٞۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٞ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡنَۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصِينَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۚ وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّكُمۡ وَلَدٞۚ فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۗ﴾