السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! مسٔلہ یہ عرض کرنا ہے کہ ایک بڑا بھائی ہے، جس نے اپنی زندگی میں اپنی ریٹائرمنٹ کے پیسے سے اپنی بیٹی اور بیوی کے لیے گھر بنوایا ہے، اب وہ شخص فوت ہوچکا ہے تو میراث میں باقی بھائی شریک ہوں گے یا نہیں؟ حالانکہ بڑے بھائی نے اپنے پیسوں سے گھر بنوایا تھا اور ریٹائرمنٹ کے پیسوں میں سے بھائیوں کو بھی دیا ہے، اب میراث کا اصل وارث کون ہے؟ *تنقیح:* محترم! وضاحت فرمائیں کہ بڑے بھائی نے جو گھر بنا کر بیٹی اور بیوی کو دیا وہ ملکیتا تھا یا صرف رہائش کے لیے تھا؟ جامعہ دارالعلوم حنفیہ نعمان بن ثابت اورنگی ٹاؤن کراچی *جواب تنقیح* ملکیتا دیا تھا ۔
اگر کوئی شخص اپنا پلاٹ یا مکان کسی دوسرے کو ہدیہ کردے اور اسے باقاعدہ قبضہ بھی دے دے تو شرعاً وہ ہدیہ مکمل ہوجاتا ہے اور وہ شخص اس کا مالک بن جاتا ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں شخص مذکور نے اپنے پیسوں سے گھر بنا کر اپنی بیوی اور بیٹی کو ہبہ کیا اور ان کو قبضہ بھی دیا تو وہ بیوی اور بیٹی ہی کی ملکیت بن گیا، میراث میں اس مکان کو تقسیم نہیں کیا جائے گا، بلکہ یہ مکان میت کی بیوی اور بیٹی کی ملکیت ہی رہے گا، البتہ اگر اس کے علاوہ کچھ میراث ہو تو اس میں بھائیوں کا بھی حصہ ہوگا۔
*الدر المختار:(56/1،ط: دارالفكر)* وركنها): هو (الايجاب والقبول) كما سيجئ.(وحكمها: ثبوت الملك للموهوب له عير لازم) فله الرجوع والفسخ (وعدم صحة خيار الشرط فيها) فلو شرطه صحت إن اختارها قبل تفرقهما، وكذا لو أبرأه صح الابراء وبطل الشرط. *الشامية:(690/5،ط: دارالفكر)* (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها أقول: قوله: جعلته باسمك، غير صحيح كما مر فكيف يكون ما هو أدنى رتبة منه أقرب إلى الصحة سائحاني.