مفتیان کرام ! کیا بہن اور بہنوئی جو کہ عمر رسیدہ بھی ہیں، اس کے ساتھ بہن کے توسط سے عمرہ کے لیے دوسری بہن جا سکتی ہے۔؟
واضح رہے کہ عورت کے لیے بغیر محرم کے شرعی سفر کے بقدر یا اس سے زیادہ سفر کرنا جائز نہیں، خواہ وہ سفر عبادت کے لیے ہو یا کسی اور مقصد کے لیے، چاہے عورت جوان ہو یا بوڑھی، حدیث شریف میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے آپ ﷺ سے سنا کہ آپ فرمارہے تھے: کوئی عورت کسی مرد سے تنہائی میں نہ ملے اور نہ کوئی عورت بغیر محرم کے سفر کرے تو حاضرین میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں نے فلاں جہاد کے سفر میں جانے کے لیے اپنا نام لکھوایا ہے، جب کہ میری بیوی حج کرنے جارہی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا : جاؤ اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔(صحیح بخاری،حدیث نمبر: 3006) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین راتوں کی مسافت کے بقدر سفر کرے، مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو۔(صحیح مسلم،حدیث نمبر: 414 - (1338) پوچھی گئی صورت میں سالی کا بہن کے ہمراہ بہنوئی کے ساتھ عمرے پر جائز نہیں، اگر اس کے باوجود بغیر محرم کے عمرے پر چلی گئیں توعمرہ ادا ہو جائے گا، لیکن بغیر محرم سفر کرنے کا گناہ ہوگا۔
صحيح البخاري:(4/ 59،رقم الحدیث:3006،ط:دارطوق النجاۃ) حدثنا قتيبة بن سعيد: حدثنا سفيان عن عمرو عن أبي معبد عن ابن عباس رضي الله عنهما: أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «لا يخلون رجل بامرأة ولا تسافرن امرأة إلا ومعها محرم فقام رجل فقال: يا رسول الله اكتتبت في غزوة كذا وكذا وخرجت امرأتي حاجة قال: اذهب فحج مع امرأتك. صحيح مسلم:(4/ 102،رقم الحدیث: 414 - (1338)،ط:دارطوق النجاۃ) وحدثنا محمد بن رافع ، حدثنا ابن أبي فديك ، أخبرنا الضحاك ، عن نافع ، عن عبد الله بن عمر ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة ثلاث ليال إلا ومعها ذو محرم . الشامية:(464/2،ط: دارالفكر) (قوله حرة) مستدرك لأن الكلام فيمن يجب عليه الحج وقد مر اشتراط الحرية فيه، لكن أشار به إلى أن ما استفيد من المقام من عدم جواز السفر للمرأة إلا بزوج أو محرم خاص بالحرة فيجوز للأمة والمكاتبة والمدبرة وأم الولد السفر بدونه كما في السراج، لكن في شرح اللباب والفتوى: على أنه يكره في زماننا (قوله ولو عجوزا) أي لإطلاق النصوص بحر.