السلام علیکم مفتی صاحب! ایک رسم ہے بچے کی کان کی رسم ہوتی ہے کہ بچے کے کان میں سوراخ کرتے ہیں، کیا یہ کرنا جائز ہے اسلام میں ؟ میری والدہ اس رسم کو کرنا چاہتی ہیں ، میں انہیں منع کروں تو وہ ناراض ہو رہی ہیں ، میری بیوی اس رسم کو نہیں کرنا چاہتی اب والدہ کو کیسے راضی کروں ؟کہ یہ گناہ ہے۔
واضح رہے کہ مردوں کے لیے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنا اور عورتوں کے لیے مردوں کی مشابہت اختیار کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں بچیوں کے ناک یا کان زینت و آرائش کی غرض سے چھیدوانا جائز ہے، البتہ لڑکوں کے ناک یا کان چھیدوانا جائز نہیں، کیونکہ یہ عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے میں داخل ہے۔
*مسند أبي داود:(رقم الحدیث:2801،ط:دار هجر)* عن ابن عباس ، «أن النبي صلى الله عليه وسلم لعن المتشبهين من الرجال بالنساء، والمتشبهات من النساء بالرجال. *ردالمختار :(6/ 420،ط:دارالفکر)* لا بأس بثقب أذن الطفل من البنات وزاد في الحاوي القدسي: ولا يجوز ثقب آذان البنين فالصواب إسقاط الواو (قوله لم أره) قلت: إن كان مما يتزين النساء به كما هو في بعض البلاد فهو فيها كثقب القرط. *الهندية' (5/ 357،ط:دارالفکر)* ولا بأس بثقب آذان النسوان كذا في الظهيرية. ولا بأس بثقب آذان الأطفال من البنات لأنهم كانوا يفعلون ذلك في زمان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم من غير إنكار كذا في الكبرى.