السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! ہماری ایک پڑوسن کا انتقال ہوا ہے، اس کے ورثا میں شوہر ، چار بیٹیاں، دو بیٹے اور ایک بھائی ہے اور وراثت میں ایک گھر ہے اور ایک دکان ہے،جن کی کل مالیت تین کروڑ روپے ہے تو یہ کل جائیداد ورثا میں کس طرح تقسیم ہوگی؟
پوچھی گئی صورت میں میت کی تجہیز و تکفین، قرض کی ادائیگی اور اگر وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں وصیت نافذ کر دینے کے بعد بقیہ کل مال کو بتیس (32) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے مرحومہ کے شوہر کو آٹھ(8) حصے ،ہر ایک بیٹے کو چھ(6) حصے ،جبکہ ہر ایک بیٹی کو تین(3) تین(3) حصے ملیں گے، اس تقسیم کی رو سے تین کروڑ جائیداد میں سے شوہر کو پچھتر لاکھ (7500000) روپے ، ہر ایک بیٹے کو چھپن لاکھ، پچیس ہزار روپے (5625000) روپے، جبکہ ہر ایک بیٹی کو اٹھائیس لاکھ، بارہ ہزار، پانچ سو (2812500) روپے دیے جائیں گے ۔
*القرآن الکریم:(النساء12:4)* وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَـرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّـهُنَّ وَلَـدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَـهُنَّ وَلَـدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَـرَكْنَ ۚ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّـةٍ يُّوْصِيْنَ بِـهَآ اَوْ دَيْنٍ. *الهندية:(450/6،ط: دارالفكر)* ويسقط الإخوة والأخوات بالابن وابن الابن وإن سفل وبالأب بالاتفاق وبالجد عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ويسقط أولاد الأب بهؤلاء وبالأخ لأب وأم ويسقط أولاد الأم بالولد وإن كان بنتا وولد الابن والأب والجد بالاتفاق، كذا في الكافي. *الھندیة:(449/6،ط:دارالفکر)* وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين.