السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں اہلِ سنت، فقہِ حنفی سے تعلق رکھتی ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر ایک والد اپنی زندگی میں اپنی تمام جائیداد دوسری بیوی کے بچوں کو ہبہ کر دے اور پہلی بیوی کے بچوں کو جان بوجھ کر محروم کر دے تو شریعتِ اسلامی اور فقہِ حنفی میں اس کا کیا حکم ہے؟ اگر اولاد کے درمیان ناانصافی کرنا شرعاً غلط اور گناہ ہے تو کیا والد کو اپنی مرضی سے بعض بچوں کو محروم کرنے کا اختیار حاصل ہے؟ کیا پہلی بیوی کے بچوں کو اپنے حق کے لیے شرعی یا قانونی چارہ جوئی کرنے کا حق ہے، یا انہیں یہ کہہ کر خاموش رہنا چاہیے کہ جائیداد والد کی ملکیت تھی اور وہ جسے چاہیں دے سکتے ہیں؟
والد اگر زندگی میں اولاد میں جائیداد تقسیم کرے تو یہ ہبہ (گفٹ) کہلاتا ہے، والد پر تمام اولاد میں برابری کرنا لازم ہے، بعض ورثا کو محروم کرنے یا ان کا حصہ کم کرنے کے لیے بعض اولاد کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا یا کسی شرعی عذر کے بغیر کم دینا جائز نہیں، حدیث مبارکہ میں اس کی ممانعت آئی ہے، اگر والد نے ایسا کیا تو وہ گناہ گار ہوگا۔ پوچھی گئی صورت میں اگر واقعتاً آپ کے والد صاحب نے ایسا کیا ہے تو ان کا یہ فعل ظلم ہے ، جو کہ جائز نہیں، والد صاحب کو چاہیے کہ اپنی آخرت سنوارنے کے لیے اس ہبہ کو ختم کر کے تمام ورثا میں برابر تقسیم کریں اگر وہ بخوشی ایسا نہ کریں تو بذریعہ عدالت انہیں اس پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔
صحيح البخاری:(رقم الحديث:2586)،ط:دار طوق النجاة عن النعمان بن بشير : «أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما، فقال: أكل ولدك نحلت مثله، قال: لا،قال:فارجعه. سنن أبي داود:(رقم الحديث:3544،دار الرسالة العالمية) «حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن حاجب بن المفضل ابن المهلب، عن أبيه، قال:سمعت النعمان بن بشير يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اعدلوا بين أبنائكم، اعدلوا بين أبنائكم". الشامیة:(696/5،ط: سعید) "وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة؛ لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى. البحر الرائق:(288/7،ط رشیدیہ) "يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين.