عبادات / نوافل عبادات / نذر یا منت

قسم، نذر اور منت میں دل کی نیت کا اعتبار

فتوی نمبر : 348 0000-00-00 143 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتیان کرام ! رہنمائی فرمائیں میں ایک ادارے کا ملازم ہوں ایک ڈیڑھ ماہ پہلے کچھ ملازمین کو نوکری سے نکالا جارہا تھا ۔کسی بھی ملازم کی نوکری جا سکتی تھی مجھ سمیت سب پریشان تھے۔میں مغرب کی نماز پڑھ رہا تھا تو دل میں خیال آیا کہ اگر میری نوکری بچ گئی تو میں پانچ ہزار روپے صد قہ کروں گا، اس سوچ کے ساتھ ذہن میں ایک مدرسے کا خیال بھی رہا کہ اس مدرسے کی باجی کو دوں گا، جس نے میری مرحوم والدہ محترمہ کو پڑھانے میں بہت کوشش کی، یہ سوچ آئی اور نماز پڑھ کے روز مرہ کے کاموں میں مصروف ہوگیا ۔ کچھ دن کے بعد ایک مہینے کا کنٹریکٹ آگیا ویسے بھی گزشتہ تقریباً ایک سال سے ایک ایک مہینے کا ہی کنٹریکٹ آتا ہے ۔ سوال ۔ یہ جو صدقے کی نیت کی یا خیال آیا ۔ یہ منت یا نظر کے زمرے میں آئے گا یا نہیں ؟ سوال ۔ کیا یہ صدقہ نکالنا اب مجھ پر واجب ہے ؟ سوال ۔ اس صدقے سے میں اپنے دوستوں کو یا گھر والوں کو کچھ کھلانے پلانے کے لئے خرچ کرسکتا ہوں؟ کہ نہیں ۔برائے کرم رہنمائی فرمائیں جزاک اللّہ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ قسم، نذر اور منت معتبر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ یہ زبان سے ادا کی جائیں ۔محض دل میں نیت کر لینے سے نہ قسم ثابت ہوتی ہے، نہ نذر اور نہ ہی منت، لہٰذا اگر کوئی شخص دل ہی دل میں منت مان لے تو شرعاً اس کا اعتبار نہیں، اور اس کو پورا کرنا واجب نہیں ۔ نیز واضح رہے کہ نذر کا گوشت صرف مستحقِ زکوٰۃ کو کھلایا جاسکتا ہے۔ نذر ماننے والا خود یہ گوشت نہیں کھا سکتا اور نہ ہی اس کے اصول (یعنی والد، والدہ، دادا، دادی، نانا، نانی) اور فروع (یعنی اولاد) کھا سکتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ مالدار ہوں، یعنی صاحبِ نصاب ہوں، انہیں بھی نذر کا گوشت دینا جائز نہیں۔

الدر المختار:(280/1،ط: دارالفكر) وشرطها الاسلام والتكليف وإمكان البر. وحكمها البر أو الكفارة. وركنها اللفظ المستعمل فيها. البحر الرائق:(300/4،ط: دارالكتاب الإسلامي) وركنها اللفظ المستعمل فيها وشرطها العقل والبلوغ. مجمع الانهر:(539/1،ط: دارإحياء التراث العربى) وحكمها وجوب البر أصلا والكفارة خلفا كما في الكافي وهو بيان لبعض أحكامها؛ لأن البر يكون واجبا ومندوبا، وحراما وأن الحنث يكون واجبا ومندوبا. النهر الفائق:(48/3،ط: دار الكتب العلمية) وركنها اللفظ المستعمل فيها، وشرطها كون الحالف مسلما. الهندية:(300/5،ط: دارالفكر) وأما في الأضحية المنذورة سواء كانت من الغني أو الفقير فليس لصاحبها أن يأكل ولا أن يؤكل الغني هكذا في النهاية.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
قسم، نذر اور منت میں دل کی نیت کا اعتبار
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
نذر کی ہوئی چیز کھانے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
نذرمانی ہوئی چیز سید کو دینے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے مالدار کر دیا تو میں مسجد بناؤں گا کہنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
نذر كا پورا کرنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
دو ہزار روزوں کی نذر ماننا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
انگوٹھی صدقہ کرنے،روزے رکھنے اور قرآن کا ختم کروانے کی نذر
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
نذر مان كر كسي اورسے پوری کروانا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
ہر نماز کے ساتھ دو رکعت نفل پڑھنے کی نذر ماننے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
کسی شخص کو چلے پر بھیجنے کی نذر ماننے کا حکم