کمزور یادداشت والے کے لیے نماز پڑھنے کا طریقہ

فتوی نمبر :
352
عبادات / نماز /

کمزور یادداشت والے کے لیے نماز پڑھنے کا طریقہ

ایک بندہ کی یاداش کمزور ہوگی ہے وہ اکثر نماز رکعتیں یاد نہی رہتی اس صورت میں کیا حکم ہے حضرات رہنمائ فرماے مہربانی ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر کسی شخص کی یادداشت کمزور ہو جائے اور وہ نماز و روزہ کو فرض سمجھتے ہوئے عمل میں غلطی کرتا ہو جیسے چار رکعت کے بجائے دو رکعت پڑھ لینا یا تشہد، قومہ یا قرأت بھول جانا تو اہلِ خانہ کو چاہیے نماز کے وقت اس کی مدد کریں،مدد کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کوئی فرد قریب بیٹھ کر رکوع و سجدے کی ہدایت دے، یا کسی کے ساتھ کھڑا کر دیا جائے تاکہ معذور شخص ان کی دیکھا دیکھی افعال کرتا رہے۔
سب سے بہتر صورت یہ ہے کہ گھر کا کوئی فرد اسے اپنے پیچھے کھڑا کر کے باجماعت نماز پڑھا دے۔

حوالہ جات

البحر الرائق:(124/2،ط: دارالكتاب الإسلامي)
وفي القنية مريض لا يمكنه الصلاة إلا بأصوات مثل أوه ونحوه يجب عليه أن يصلي ولو اعتقل لسانه يوما وليلة فصلى صلاة الأخرس ثم انطلق لسانه لا تلزمه الإعادة.

الهندية:(138/1،ط: دارالفكر)
مصل أقعد عند نفسه إنسانا فيخبره إذا سها عن ركوع أو سجود يجزيه إذا لم يمكنه إلا بهذا، كذا في القنية.

حاشية الطحطاوي:(433/1،ط: دارالكتب العلمية)
ويفعل المريض في صلاته من القراءة والتسبيح والتشهد ما يفعله الصحيح وإن عجز عن ذلك تركه كما في التتارخانية.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
123
فتوی نمبر 352کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --