متعین کمیشن کی صورت میں مارکیٹنگ پر خرچ کی کمی یا زیادتی کی صورت میں کمیشن کا حکم

فتوی نمبر :
48
/ /

متعین کمیشن کی صورت میں مارکیٹنگ پر خرچ کی کمی یا زیادتی کی صورت میں کمیشن کا حکم

میرا سوال یہ ہے کہ اگر ہم دکاندار سے اپنا کمیشن طے کر لیں مثال کے طور پر 1000 اور پھر ہم اس پروڈکٹ کی مارکیٹنگ کریں اور مارکیٹنگ پر خرچہ بھی ہو تو ہمارا کمیشن وہ ایک متعین رقم کی صورت میں ہمیں تو نہیں مل سکتا اب جب خرچہ ہوگا تو کمیشن کبھی 800 بھی ہو سکتا ہے اور کبھی 500 بھی ہو سکتا ہے مطلب کہ اس کا سارا دارومدار مارکیٹنگ کاسٹ پر ہے اگر مارکیٹنگ کاسٹ کم ہو گئی تو نفع ذیادہ ہوگا اگر خرچہ 300 ہو گیا تو نفع 700 تک ہوگا تو کیا یہ جائز ہے

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ



واضح رہے کہ معاملے کے درست ہونے کے لیے کمیشن کا متعین ہونا کافی ہے، باقی خرچ کا کم یا زیادہ ہونا اصل معاملے کو متاثر نہیں کرتا۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ اور دکاندار کے درمیان کمیشن پہلے سے طے ہے، اس لیے یہ معاملہ شرعاً جائز ہے، اگر مارکیٹنگ پر خرچ کم یا زیادہ ہوجائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

حوالہ جات



صحیح البخاری:(92/3،ط:دارطوق النجاۃ)
باب: أجر السمسرة. ولم ير ابن سيرين وعطاء وإبراهيم والحسن بأجر السمسار بأسا.وقال ابن عباس: لا بأس أن يقول: بع هذا الثوب، فما زاد على كذا وكذا فهو لك.
وقال ابن سيرين: إذا قال: بعه بكذا، فما كان من ربح فهو لك، أو بيني وبينك، فلا بأس به. وقال النبي ﷺ: (المسلمون عند شروطهم).

بدائع الصنائع:(4/184،ط:دارالکتب العلمیة)
، ولو استأجر إنسانا ليبيع له ويشتري ولم يبين المدة لم يجز لجهالة قدر منفعة البيع والشراء، ولو بين المدة بأن استأجره شهرا ليبيع له ويشتري جاز؛ لأن قدر المنفعة صار معلوما ببيان المدة، وما روي عن بعض الصحابة رضي الله عنهم قال: «كنا نبيع في أسواق المدينة ونسمي أنفسنا السماسرة فخرج علينا رسول الله ﷺ وسمانا بأحسن الأسماء فقال ﷺ: يا معشر التجار إن بيعكم هذا يحضره اللغو والكذب فشوبوه بالصدقة» والسمسار هو الذي يبيع أو يشتري لغيره بالأجرة فهو محمول على ما إذا كانت المدة معلومة، وكذا إذا قال: بع لي هذا الثوب ولك درهم وبين المدة وإن لم يبين فباع واشترى فله أجر مثل عمله؛ لأنه استوفى منفعته بعقد فاسد.

الشامیة:(2/47،ط: دارالفکر)
قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل.

أیضاً:(63/6)
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام.

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ(نعمان بن ثابت)اورنگی ٹاون، کراچی

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
100
فتوی نمبر 48کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 155