نجاسات اور پاکی

غسل کرنے کے بعد وضو کی ضرورت ہے یا نہیں ؟

فتوی نمبر :
625
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

غسل کرنے کے بعد وضو کی ضرورت ہے یا نہیں ؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ غسل کرنے کے بعد نماز پڑھنے کی اجازت ہے یا الگ سے دوبارہ وضو کرنا ہوگا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ غسل کرنے سے وضو ہوجاتا ہے لہذا غسل کرنے کے بعد نماز پڑھنے کے لیے دوبارہ سے وضو کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔

حوالہ جات

سنن الترمذي:(1/ 150،رقم الحديث:107 ط: دار الغرب الإسلامي )
عن عائشة، أن النبي صلى الله عليه وسلم «كان لا يتوضأ ‌بعد ‌الغسل .

الشامية :(1/ 158، ط: دارالفكر)
قالوا: لو توضأ أولا ‌لا ‌يأتي ‌به ‌ثانيا؛ لأنه لا يستحب وضوءان للغسل اتفاقا.

الفقه الإسلامي وأدلته :(1/ 531، ط:دارالفكر)
يجزئ ‌غسل ‌الجنابة ‌عن ‌غسل الوضوء بنية رفع الحدث الأكبر ولو لم ينو الأصغر إذا لم يحصل له ناقض من مس ذكر أو غيره، وكذلك قال الشافعية على المذهب: يكفي الغسل، سواء أنوى الوضوء معه أم لا.

فتاویٰ محمودیہ 5/91 ، ط:جامعہ فاروقیہ کراچی

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
110
فتوی نمبر 625کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --