سجدہ سہو ایک یا مکرر ؟

فتوی نمبر :
649
عبادات / نماز /

سجدہ سہو ایک یا مکرر ؟

سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر نماز میں دو، تین غلطیاں ایسی ہوجائیں، جن سے سجدہ سہو واجب ہو تو ایک سجدہ سہو کافی ہے؟ یا دو تین کرنے پڑیں گے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نماز میں اگر دو تین غلطیاں ایسی ہوجائیں، جن سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہو توان سب کے لیے ایک ہی سجدہ سہو کافی ہے ۔

حوالہ جات

(البحر الرائق شرح كنز الدقائق :2/ 106، ط دار الكتاب الإسلامي)
الخامس أنه لا يتكرر الوجوب بترك (وإن تكرر) حتى لو ترك جميع واجبات الصلاة سهوا لا يلزمه إلا سجدتان بحر.

(الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:2/ 1122،ط : دار الفكر)
لاخلاف بين العلماء في أنه ‌إذا ‌سها ‌المصلي سهوين أو أكثر، كفاه للجميع سجدتان ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
65
فتوی نمبر 649کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --