نماز میں واجب قراءت کی مقدار

فتوی نمبر :
665
عبادات / نماز /

نماز میں واجب قراءت کی مقدار

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر فرض نماز میں قرآن حکیم کی کسی بڑی آیت میں سے آدھی پڑھ لی جائے تو نماز صحیح ادا اہوجائے گی ؟ مثلا : سورۂ مزمل کی آخری آیت " علم ان لن تحصوہ فتاب علیکم ۔۔۔ الخ ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نماز کے صحیح ہونے کے لیے قرآن کریم کی ایک بڑی آیت یا چھوٹی تین آیات پڑھ لینے سے نماز ادا ہوجاتی ہے ، تاہم اگر کسی نے کسی بڑی آیت کے ایک حصہ (مثلا آدھا ) پڑھ لیا جس کی مقدار چھوٹی تین آیات کے برابر ہو، تو نماز ہوجائے گی ،البتہ بہتر یہ ہےکہ ایک آیت کریمہ مکمل پڑھ لی جائے ۔

حوالہ جات

الدرالمختار : (1/ 632، ط: دارالفكر)
«ولو زاد كلمة أو نقص كلمة أو نقص حرفا، أو قدمه أو بدله بآخر نحو من ثمره إذا أثمر واستحصد - تعالى جد ربنا - انفرجت بدل - انفجرت - إياب بدل - أواب - لم تفسد ما لم يتغير المعنى .

الشامية :(1/ 632، ط: دارالفكر)
(قوله أو نقص كلمة) كذا في بعض النسخ ولم يمثل له الشارح. قال في شرح المنية: ‌وإن ‌ترك ‌كلمة - ‌من آية - فإن لم تغير المعنى مثل - وجزاء سيئة - مثلها - بترك سيئة الثانية لا تفسد .


الهندية: (1/ 71، ط: دارالفكر)
وتجب قراءة الفاتحة وضم السورة أو ما يقوم مقامها ‌من ‌ثلاث ‌آيات ‌قصار أو آية طويلة في الأوليين بعد الفاتحة كذا في النهر الفائق وفي جميع ركعات النفل والوتر. هكذا في البحر الرائق.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
63
فتوی نمبر 665کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --