نمازچھوڑ کر خریدوفروخت کرنا

فتوی نمبر :
667
عبادات / نماز /

نمازچھوڑ کر خریدوفروخت کرنا

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز چھوڑکر سامان بیچنے والے سے خریداری کرنا کیسا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نماز کے دوران نماز چھوڑ کر خرید وفروخت کرنا والا اپنے اس عمل سے فاسق ہوگیا ہے اور فاسق کے ساتھ معاملات کرنے میں کوئی حرج نہیں تاہم اگر اس کو تنبیہ کرانے کی غرض سے اس سے نہ خریدا جائے تو بہتر ہے ۔

حوالہ جات

الشامية :(4/ 504، ط:دارالفكر)
(قوله: وشرطه أهلية المتعاقدين) أي بكونهما عاقلين، ولا يشترط البلوغ والحرية.ولا الإسلام والنطق والصحو.

الهندية:(3/ 2، ط:دارالفكر)
أما شرائط الانعقاد فأنواع ‌منها ‌في ‌العاقد وهو أن يكون عاقلا مميزا كذا في الكافي والنهاية فيصح بيع الصبي والمعتوه اللذين يعقلان البيع وأثره .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
62
فتوی نمبر 667کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --