السلام علیکم!
عرض یہ ہے، کیا خواتین کو ہر نماز میں شلوار بدلی کرنے کا حکم عذر کے ساتھ منسلک ہے؟ یا بغیر عزر کے بھی لازمی نماز کے لیے شلوار تبدیل کرنی ہے؟
دوسرا معاملہ خواتین کی کمائی جائز نہیں ہے۔کیا یہ حکم لیڈی ڈاکٹر یا لیڈیز ٹیچر کے لیے بھی ہے ؟ کیا خواتین اپنی کمائی سے حج یا عمرہ ادا نہیں کر سکتیں؟
)ا)گر شلوار پر ظاہری نجاست نہ ہو تو ہر نماز کے لیے شلوار تبدیل کرنا ضروری نہیں، البتہ اگر عورت کو اس قدر مسلسل استحاضہ کا خون آتا ہو یا کوئی اور ایسا عذر ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر نماز کے وقت میں ایک مرتبہ وضو کر کے اور کپڑا دھو کر یا تبدیل کر کے نماز پڑھ لے۔
(۲ )عورت کے لیے شدید مجبوری کے علاوہ گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے، لہذا اگر کسی وجہ سے معاشی تنگی ہو اور ضروریات زندگی پوری نہ ہو رہی ہوں یا معاشرے میں ایسی ضرورت ہو جو مرد حضرات سے پوری نہ ہو سکے تو اس کے لیے ایسے ہسپتال یا سکول میں مکمل پردے میں رہ کر ملازمت کرنا جہاں مردوں کے ساتھ اختلاط نہ ہو جائز ہے، تاہم بلا ضرورت ملازمت کرنا درست نہیں ۔
(۳)اگر عورت نے مذکورہ بالا شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے،حلال طریقے سے مال کمایا ہے تو اس کی کمائی حلال ہے، اس سے حج اور عمرہ کرسکتی ہے، اگر ناجائز طریقے سے مال کمایا ہے تو اس کی کمائی حرام ہے، اس سے حج اور عمرہ کرنا درست نہیں۔
*الدر المختار :(306/1،ط:دارالفکر)*
(وإن سال على ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لا يغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أي: الصلاة (وإلا) يتنجس قبل فراغه (فلا) يجوز ترك غسله، هو المختار للفتوى.
*احکام القران للجصاص: (471/3،ط:دارالکتب العلمیة)*
﴿وقرن في بيوتكن﴾ كن أهل وقار وهدوء وسكينة، يقال: وقر فلان في منزله يقر وقورا إذا هدأ فيه واطمأن به وفيه الدلالة على أن النساء مأمورات بلزوم البيوت منهيات عن الخروج.
*الموسوعة الفقھیة: (82/7،ط:دار السلاسل)*
والنصوص الدالة على جواز عمل المرأة كثيرة، والذي يمكن استخلاصه منها، أن للمرأة الحق في العمل بشرط إذن الزوج للخروج، إن استدعى عملها الخروج وكانت ذات زوج، ويسقط حقه في الإذن إذا امتنع عن الإنفاق عليها...وإذا عملت المرأة فيجب أن يكون في حدود لا تتنافى مع ما يجب من صيانة العرض والعفاف والشرف. ويمكن تحديد ذلك بما يأتي:
ألا يكون العمل معصية كالغناء۔۔۔يكون عملها مما يكون فيه خلوةبأجنبي۔۔۔ألا تخرج لعملها متبرجة متزينة بما يثير الفتنة
*ایضا :(244/34)*
والحرام كله خبيث، لكن بعضه أخبث من بعض، فإن المأخوذ بعقد فاسد حرام، ولكنه ليس في درجة المغصوب على سبيل القهر، بل المغصوب أغلظ؛ إذ فيه إيذاء الغير وترك طريق الشرع في الاكتساب،وليس في العقود الفاسدة إلا ترك طريق التعبد فقط، وكذلك المأخوذ ظلما من فقير أو صالح أو يتيم أخبث وأغلظ من المأخوذ من قوي أو غني أو فاسق والكسب الخبيث هو أخذ مال الغير لا على وجه إذن الشرع، فيدخل فيه القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق وما لا تطيب نفس مالكه، أو حرمته الشريعة وإن طابت به نفس مالكه كمهر البغي وحلوان الكاهن وأثمان الخمور والخنازير وغير ذلك.
*رد المحتار :(256/2،ط:دار الفکر )*
فإن الحج في نفسه مأمور به، وإنما يحرم من حيث الإنفاق، وكأنه أطلق عليه الحرمة لأن للمال دخلا فيه، فإن الحج عبادة مركبة من عمل البدن والمال كما قدمناه، ولذا قال في البحر ويجتهد في تحصيل نفقة حلال، فإنه لا يقبل بالنفقة الحرام كما ورد في الحديث، مع أنه يسقط الفرض عنه معها ولا تنافي بين سقوطه، وعدم قبوله فلا يثاب لعدم القبول، ولا يعاقب عقاب تارك الحج.