سوال : ہماری جماعت کا تعلق کراچی سے ہے اور ہماری تشکیل شیخوپورہ کے مضافات کی ایسی مساجد میں ہوئی ہے، جن کے رہائشی عرف میں اہل حدیث کی کہلواتے ہیں۔ ان کی جماعت کی نمازوں کے اوقات فقہ حنفی سے تھوڑے مختلف ہیں, چار نمازیں فجر، ظہر، مغرب اور عشاء کی جماعت کے اوقات تو دائمی نقشہ احناف کے اوقات کے اندر اندر ہیں، لیکن انکی عصر کی جماعت کا وقت شافعی مسلک سے میچ ہو رہا ہے، یعنی ان کی عصر کی جماعت 3:10 پر کھڑی ہوتی ہے اور احناف کے مطابق یہاں عصر کا وقت 3:30 کے بعد داخل ہو رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم امام مسجد کے پیچھے نماز ادا کر کے اپنی نماز کافی شافی سمجھیں یا عصر حنفی داخل ہونے کے بعد اپنی جماعت کروائیں ؟
یا انفرادی طور پر دو دو رکعت قصر ادا کریں؟
واضح رہے کہ اہلِ حدیث(غیر مقلدین) حضرات عصر کی نماز مثلِ اول میں ادا کرتے ہیں، جبکہ احناف کے نزدیک مفتی بہ قول یہ ہے کہ عصر کا وقت مثل ثانی (جب سایہ اصلی کے علاوہ ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو جائے) کے بعد داخل ہوتا ہے، اس لیے احناف کے لیے عصر کی نماز مثلِ اول میں پڑھنا جائز نہیں، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر آپ حضرات عصر کی نماز غیر مقلد امام کے پیچھے مثلِ اول میں پڑھتے ہیں، چونکہ اس وقت احناف کے ہاں عصر کا وقت نہیں ہوتا، اس لیے اس نماز کا اعادہ ضروری ہوگا، اسی طرح آپ حضرات اگر مسافر ہیں تو اپنی جماعت یا انفرادی بھی نماز پڑھ سکتے ہیں، بہر حال ایسی صورت اختیار کی جائے جس سے فتنے کا اندیشہ نہ ہو، اگر جماعت کروانے میں فتنے کا اندیشہ ہو تو انفرادی نماز پڑھ لی جائے ۔
*الدر المختار:(53/1،ط: دارالفكر)*
(ووقت الظهر من زواله) أي ميل ذكاء عن كبد السماء (إلى بلوغ الظل
مثليه) وعنه مثله، وهو قولهما وزفر والائمة الثلاثة.قال الامام الطحاوي: وبه نأخذ، وفي غرر الاذكار: وهو المأخوذ به.
*الشامية:(359/1،ط: دارالفكر)*
قوله: إلى بلوغ الظل مثليه) هذا ظاهر الرواية عن الإمام نهاية، وهو الصحيح بدائع ومحيط وينابيع، وهو المختار غياثية واختاره الإمام المحبوبي وعول عليه النسفي وصدر الشريعة تصحيح قاسم واختاره أصحاب المتون، وارتضاه الشارحون، فقول الطحاوي وبقولهما نأخذ لا يدل على أنه المذهب، وما في الفيض من أنه يفتى بقولهما في العصر والعشاء مسلم في العشاء فقط على ما فيه، وتمامه في البحر.
*وأيضاً:(359/1،ط: دارالفكر)*
إذا لزم من تأخيره العصر إلى المثلين فوت الجماعة يكون الأولى التأخير أم لا، والظاهر الأول بل يلزم لمن اعتقد رجحان قول الإمام تأمل.