سنت رسول ﷺ

وہ مقامات جہاں سلام کرنا منع ہے

فتوی نمبر :
896
آداب / آداب زندگی / سنت رسول ﷺ

وہ مقامات جہاں سلام کرنا منع ہے

مفتی صاحب !
وہ کون سے مقامات ہیں جہاں دوسرے کو سلام کرنا منع ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ سلام کرنا سنت مؤکدہ ہے اور اس کا جواب دینا واجب ہے، نیز سلام میں پہل کرنے والے کو زیادہ ثواب ملتا ہے۔ تاہم ایسے افراد کو سلام کرنے سے گریز کیا جائے، جن کے کسی اہم عمل میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہو، یا جنہیں سلام کرنا بے ادبی یا فتنہ کا سبب ہو، یا جو فسق و فجور میں مشغول ہوں۔
علما نے درج ذیل مقامات و حالات میں سلام کرنے کو منع فرمایا ہے:
1. نماز پڑھنے والے کو۔
2. قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے والے کو۔
3. ذکر و اذکار یا دعا میں مشغول شخص کو۔
4. خطبہ دینے یا سننے والے کو، اسی طرح اذان یا اقامت کہنے والے کو۔
5. اجنبی عورت کو (فتنے کے اندیشے کی وجہ سے)۔
6. قضائے حاجت (پیشاب یا پاخانہ) میں مشغول شخص کو۔
7. کھانے یا پینے میں مشغول شخص کو۔
8. گانے بجانے یا کھیل تماشے میں مصروف شخص کو۔
9. کافر کو۔
10. نشے میں مدہوش شخص کو۔
11. نیم سوئے ہوئے یا سوئے ہوئے شخص کو۔
12. جماع کی حالت میں۔
13. غسل خانہ یا حمام میں۔
14. دیوانے یا مجنون کو۔
15. عدالت میں جھگڑا یا مقدمہ پیش کر رہے شخص کو۔
16. لبیک (تلبیہ) کہنے والے حاجی کو۔

حوالہ جات

*الشامية:(1/ 618،ط:دارالفكر)*
وقد نظم الجلال الأسيوطي المواضع التي لا يجب فيها رد السلام ونقلها عنه الشارح في هامش الخزائن فقال:
‌رد ‌السلام ‌واجب ‌إلا ‌على … من في الصلاة أو بأكل شغلا
أو شرب أو قراءة أو أدعيه … أو ذكر أو في خطبة أو تلبيه
أو في قضاء حاجة الإنسان … أو في إقامة أو الآذان
أو سلم الطفل أو السكران … أو شابة يخشى بها افتتان
أو فاسق أو ناعس أو نائم … أو حالة الجماع أو تحاكم
أو كان في الحمام أو مجنونا … فواحد من بعدها عشرونا.

*الشامية:(1/ 617،ط:دارالفكر)*
يكره السلام على العاجز عن الجواب حقيقة كالمشغول بالأكل أو الاستفراغ، أو شرعا كالمشغول بالصلاة وقراءة القرآن، ولو سلم لا يستحق الجواب اهـ.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
92
فتوی نمبر 896کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --