عورتوں کو نماز میں چہرہ , ہتھیلی اور پیر کے کھولنے کا حکم ہے لہذا اس کی حدود کیا ہے نیز چھپانے والے اعضاء اگر دکھ جائیں یا مسلسل دکھ رہے ہوں مثلا سر کے بال , کلائی یا ٹخنے وغیرہ تو اس نماز کا کیا حکم ہوگا؟
واضح رہے کہ عورت کے چہرے، دونوں ہتھیلیوں اور دونوں قدموں کے علاوہ سارا جسم اس کا ’’ستر‘‘ ہے،لہذا نماز کے دوران اگر ان اعضا میں سے کسی عضو کا ایک چوتھائی حصہ ظاہر ہو گیا اور ایک رکن کی ادائیگی کی مقدار (تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار) کھلا رہا تو نماز فاسد ہو جائے گی،البتہ اگر نماز کی ابتدا سے ستر کا ایک چوتھائی حصہ کھلا رہا تو نماز کی نیت اور نماز باطل ہوجائے گی اور ستر چھپاکر دوبارہ نئے سرے سے نیت کرکے نماز ادا کرنا لازم ہوگا اور اگر دوران نماز نمازی کے اپنے عمل سے عضوِ مستور کا ایک چوتھائی حصہ یا اس سے کم کھل گیا تو نماز فوراً فاسد ہوجائے گی اور اس صورت میں ستر کا ایک رکن کی مقدار تک کھلا رہنا شرط نہیں۔
*الدرالمختار:(1/ 408،ط:دارالفکر)*
(ويمنع) حتى انعقادها (كشف ربع عضو) قدر أداء ركن بلا صنعه (من) عورة غليظة أو خفيفة على المعتمد (والغليظة قبل ودبر وما حولهما، والخفيفة ما عدا ذلك) من الرجل والمرأة، وتجمع بالأجزاء لو في عضو واحد، وإلا فبالقدر؛ فإن بلغ ربع أدناها كأذن منع.
*الهندية:(1/ 58،ط:دارالفکر)*
ستر العورة شرط لصحة الصلاة إذا قدر عليه. كذا في محيط السرخسي.،،،،،،،،،
بدن الحرة عورة إلا وجهها وكفيها وقدميها.