السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مسئلہ یہ ہے کہ گاڑی میں سے کچھ سامان گرا ہے اور گاڑی والے کوآواز دینے کےباوجود بھی نہیں رکا تو سامان یہاں پر رکھا ہوا ہے جس کا مالک نہیں مل رہا تو ایسے سامان کے ساتھ کیا کیا جائے اور اس سامان میں جائے نماز، اور چٹائی بھی ہے اس کو نماز پڑھنے کے لیے خود یا کسی کو دینا جائز ہے۔
واضح رہے کہ اگر کسی کو کوئی گم شدہ رقم یا چیز ملے اور اس کا مالک معلوم ہو تو فوراً مالک تک پہنچا دے۔ اور اگر امید ہو کہ مالک خود تلاش کرتا ہوا آ جائے گا تو وہ چیز وہیں چھوڑ دے۔
اگر مالک معلوم نہ ہو اور ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو وہ چیز اٹھا لے، اسے "لقطہ" کہا جاتا ہے۔ لقطہ کا حکم یہ ہے کہ اس کی گمشدگی کا اعلان کیا جائے اور مالک تک پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ اگر مالک نہ ملے اور حفاظت دشوار ہو تو اس چیز کو صدقہ کر دیا جائے۔
مزید یہ کہ اگر پانے والا خود فقیر ہو تو وہ اس چیز کو اپنے استعمال میں لا سکتا ہے، تاہم صدقہ کرنے یا فقیر ہونے کی وجہ سے خود استعمال کرنے کی صورت میں اگر بعد میں مالک مل جائے تو تاوان ادا کرنا ضروری ہوگا۔
پوچھی گئی صورت میں اگر سائل خود فقیر ہے تویہ سامان استعمال کرسکتا ہے اور اگر خود فقیر نہیں تو اس سامان کو صدقہ کرے۔
*رد المحتار:(287/4 ،ط: دار الفکر)*
( وعرف ) أي نادى عليها حيث وجدها وفي المجامع ( إلى أن علم أن صاحبها لا يطلبها أو أنها تفسد إن بقيت كالأطعمة ) والثمار ( كانت أمانة ) لم تضمن بلا تعد فلو لم يشهد مع التمكن منه أو لم يعرفها ضمن إن أنكر ربها أخذه للرد وقبل الثاني قوله بيمينه وبه نأخذ حاوي وأقره المصنف وغيره ( ولو من الحرم أو قليلة أو كثيرة ) فلا فرق بين مكان ومكان ولقطة ولقطة ( فينتفع) الرافع ( بها لو فقيرا وإلا تصدق بها على فقير ولو على أصله وفرعه وعرسه إلا إذا عرف أنها لذمي فإنها توضع في بيت المال ) تاترخانية و في القنية لو رجا وجود المالك وجب الإيصاء ( فإن جاء مالكها ) بعد التصدق ( خير بين إجازة فعله ولو بعد هلاكها) وله ثوابها ( أو تضمينه ).
*الهداية في شرح بداية المبتدي: (2 / 418،ط: دار احیاء التراث العربي)*
قال: فإن جاء صاحبها وإلا تصدق بها إيصالا للحق إلى المستحق وهو واجب بقدر الإمكان وذلك بإيصال عينها عند الظفر بصاحبها وإيصال العوض وهو الثواب على اعتبار إجازة التصدق بها وإن شاء أمسكها رجاء الظفر بصاحبها.
*الهندية:(289/2 ،ط:دارالفکر)*
ویعرف الملتقط اللقطۃ فی الاسواق والشوارع مدۃ یغلب علی ظنہ ان صاحبہا لا یطلبہا بعد ذلک ہو الصحیح کذا فی مجمع البحرین.