السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مسئلہ یہ ہے کہ فرض نماز میں امام کے پیچھے سبحان ربی العظیم یا سبحان ربی الاعلی تین سے زائد بار پڑھنا چاہیے کہ نہیں؟ وضاحت فرمائیے۔
واضح رہے کہ فرض نماز کے رکوع اور سجدے میں" سبحان ربی العظیم" اور "سبحان ربی الاعلی" کم از کم تین مرتبہ پڑھنا مسنون ہے، اگر مقتدی تین سے زائد مرتبہ پڑھ لے تو بھی باعث اجر ہے، لیکن تسبیحات میں طاق عدد کا لحاظ کیا جائے،( یعنی تین، پانچ یا سات مرتبہ تسبیحات پڑھی جائیں)
*مراقی الفلاح شرح نور الایضاح:(99/1،ط: المکتبة العصریة)*
ویسن تسبیحہ أي الرکوع ثلاثًا لقول النبي -صلی اللہ علیہ وسلم- إذا رکع أحدکم فلیقل ثلاث مرات سبحان ربي العظیم وذلک أدناہ وإذا سجد فلیقل سبحان ربي الأعلی ثلاث مرات وذلک أدناہ․․․ والأمر للاستحباب فیکرہ أن ینقص عنہا ولو رفع الإمام مثل إتمام المقتدي ثلاثا فالصحیح أنہ یتابعہ الخ.
*حاشیة الطحطاوي على مراقي الفلاح:(265/1 ،ط: دارالکتب العلمية)*
قال في البحر ما ملخّصہ أن الزیادة أفضل بعد أن یختم علی وتر خمس او سبع او تسع لخبر الصحيحين.
*رد المحتار:(494/1، ط: دارالفکر)*
( و يسبح فيه) وأقله (ثلاثا)، صرحوا بأنه یكره أن ينقص عن الثلاث وأن الزيادة مستحبة بعد أن يختم على وتر خمس أو سبع أو تسع ما لم يكن إماما فلا يطول.