السلام علیکم!
مسئلہ یہ ہے کہ دکان یا مکان کرائے پر لیتے ہیں، اس میں ایڈوانس دینا جائز ہے یا نہیں؟ اور گاڑی، مکان یا دوکان خریداری کرتے وقت بیعانہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
اگر سودا نہیں بنا تو ایسی صورت میں بیعانہ واپس کرنا چاہیے یا نہیں؟ جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
واضح رہے کہ مالک مکان کا کرایہ دار سے بطور سیکورٹی کچھ رقم (ایڈوانس) لینا جائز ہے اور یہ رقم مالک مکان کے پاس ابتداءً امانت اور عرفاً کرایہ دار کی طرف سے استعمال کی اجازت ہونے کی وجہ سے قرض ہوتی ہے، اس لیے مالک مکان کے لیے اس کا استعمال کرنا اور نفع اٹھانا جائز ہے، البتہ مکان وغیرہ چھوڑتے وقت ایڈوانس دی ہوئی رقم کا واپس کرنا ضروری ہے ۔
اسی طرح کوئی چیز خریدتے وقت بیعانہ لینا دینا جائز ہے، البتہ سودا کینسل ہونے کی صورت میں بطور بیعانہ لی گئی رقم کا واپس کرنا ضروری ہے ، کیونکہ یہ رقم خریدی ہوئی چیز کی قیمت کا حصہ ہوتی ہے ، اس لیے اس رقم کو مالک کا اپنے پاس رکھنا جائز نہیں۔
*موطأ مالك : (رقم الحدیث:2470،ط: مؤسسة الرسالة)*
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع العربان.
*حجة الله البالغة: (2/ 167،ط:دارالجیل)*
وَنهى عَن بيع العربان أَن يقدم إِلَيْهِ شَيْء من الثّمن، فَإِن اشْترى حسب من الثّمن، وَإِلَّا فَهُوَ لَهُ مجَّانا وَفِيه معنى الميسر.
*بحوث في قضايا فقهية معاصرة: (109،ط:دارالقلم)*
والخلو عبارة عن حق القرار في دار أو حانوت، فربما يؤجر صاحب البناء بناءه لمدة طويلة، فيأخذ من المستأجر مبلغا مقطوعا عند عقد الإجارة زيادة على أجرته الشهرية أو السنوية، وبدفع هذا المبلغ يستحق المستأجر أن يبقى على إجارته مدة طويلة. ثم ربما ينقل المستأجر حقه هذا إلى غيره، فيأخذ منه مبلغا يستحق به عقد الإجارة مع صاحب البناء، وإذا أراد المالك استرداد بنائه من المستأجر لزمه أن يؤدي إليه مبلغا يتراضى عليه الطرفان. وإن هذه المبالغ كلها تسمى "خلو" أو "جلسة" في شتى البلاد العربية، و"بكرى" و"سلامي" في ديارنا. وأصل الحكم في هذا الخلو عدم الجواز، لكونه رشوة أو عوضا عن حق مجرد. ولكن أفتى بعض الفقهاء بجوازه.