معاملات / ترکات / احکام وصیت

والدہ کا اپنے بیٹے کے لیے زیورات کی وصیت کا حکم

فتوی نمبر : 1369 0000-00-00 70 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ زید کی ماں نے دو گواہوں کی موجودگی میں کہا کہ اگر میں مر جاؤں تو میرے زیورات زید کے ہوں گے زید کے ماں کا انتقال کے بعد یہ زیورات زید کے ہوں گے یا تمام ورثامیں تقسیم ہوں گے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ وارث کے لیےو صیت نافذ نہیں ہوتی ، لہذا پوچھی گئی صورت میں والدہ کے زیورات تمام ورثا میں تقسیم ہوں گے ، البتہ اگر تمام ورثاخوشی سے زید کو دینا چاہے تو یہ وصیت نافذ ہوسکتی ہے ۔

الهندية: (6/ 90، ط: دارالفكر) ولا تجوز ‌الوصية ‌للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي حتى كان لهم الرجوع بعد ذلك، كذا في فتاوى قاضي خان. الموسوعة الفقهية: (43/ 246، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية ) ذهب الفقهاء إلى أنه يشترط ألا يكون الموصى له ‌وارثا ‌للموصي عند موت الموصي، إذا كان هناك وارث آخر لقوله صلى الله عليه وسلم: إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه، فلا وصية لوارث ".وقوله صلى الله عليه وسلم أيضا: لا تجوز وصية لوارث إلا أن يشاء الورثة .
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
مرض الموت میں کسی وارث کو جائیداد ہبہ کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
والدہ کا اپنے بیٹے کے لیے زیورات کی وصیت کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
زبانی وصیت کا حکم