السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! پوچھنا یہ ہے کہ دو شخص ایک ہی جانور میں شریک ہیں، ایک شخص کے پانچ حصے ہیں اور دوسرے شخص کے دو حصے ہیں، یہ ایک شخص دوسرے شخص کے حصوں میں سے بھی کچھ رقم ان کی طرف سے دے دیتا ہے، مثال کے طور پر دو حصوں کے 40 ہزار بنتے ہیں اور وہ 35 ہزار دیتا ہے 5 ہزار روپے یہ دوسرا شخص پانچ حصوں والا اپنی طرف سے دیتا ہے تو کیا اس طرح کرنا جائز ہے ۔۔۔؟ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ وہ دونوں شخص ایک ہی گھر میں رہتے ہیں، کمائی ہر ایک کی الگ ہے، لیکن کھانا پینا سب مشترک ہے تو پھر وہ اس پوری گائے کا گوشت مل بانٹ کر سب کھا سکتے ہیں؟ یعنی جس کے پانچ حصے ہیں وہ بھی اور جس کے دو حصے ہیں وہ بھی یا الگ الگ حصے تقسیم کرنے ہوں گے ؟
(1)قربانی کے بڑے جانور میں اگر متعدد افراد شریک ہوں تو ہر شریک پر لازم ہے کہ وہ اپنے حصے کے مطابق رقم ادا کرے اور کسی بھی شریک کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو، البتہ اگر کسی شریک کے پاس مکمل رقم موجود نہ ہو اور دوسرے شرکا میں سے کوئی شخص اس کی اجازت اور خوش دلی سے اس کی طرف سے باقی رقم ادا کردے تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں، قربانی درست ہوجائے گی۔ (2)اگر گھر کے افراد مل کر اجتماعی قربانی کرتے ہیں اور گوشت تقسیم کیے بغیر گھر میں اکٹھا رکھ دیتے ہیں اور پھر اسی گوشت کو پکا کر ایک ساتھ کھاتے ہیں تو یہ جائز ہے اور اس صورت میں گوشت کو باقاعدہ تول کر حصوں کے موافق تقسیم کرنا ضروری نہیں ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر یہ پانچ ہزار روپے اس شخص کی طرف سے ملکیتا ادا کے گئے تو اس کی قربانی بھی جائز ہے اور اکٹھا کھانے کی صورت میں گوشت تقسیم نہ کرنا بھی جائز ہے ۔