آج کل کچھ کمپنیز سوشل میڈیا کے یو۔کے اور یو۔ایس۔اے کے مونیٹائزڈ پیج بناتے ہیں، جس پر ماہانہ ایک لاکھ سے دو، ڈھائی لاکھ آمدن (ارننگ ) بھی ہوتی ہے ۔ ایسے پیج وہ عام طور پر دو سے تین لاکھ روپے میں فروخت کرتے ہیں اور ایک ماہ کی وارنٹی بھی دیتے ہیں ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ایسا پیج خریدنا بیچنا شرعا کیسا ہے؟ اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کیا حکم ہے ؟
واضح رہے کہ خرید و فروخت ہر اس چیز کی جائز ہے جس کا خارج میں وجود ہو اور مال ہو، لہذا سوشل میڈیا کے کسی بھی قسم کے اکاؤنٹ کی خرید و فروخت شرعاً جائز نہیں، کیونکہ نہ یہ مال ہے اور نہ ہی اس کا خارج میں کوئی مستقل وجود ہے۔
*الشامية: (5/ 50،ط:دارالفكر)* (بطل بيع ما ليس بمال) والمال ما يميل إليه الطبع ويجري فيه البذل والمنع درر، (قوله بطل بيع ما ليس بمال) أي ما ليس بمال في سائر الأديان بقرينة قوله: والبيع به فإن ما يبطل سواء كان مبيعا أو ثمنا ما ليس بمال أصلا ." *ایضا :(517/4)* "وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف." (قوله: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها. أقول: وكذا لا تضمن بالإتلاف قال: في شرح الزيادات للسرخسي وإتلاف مجرد الحق لا يوجب الضمان؛ لأن الاعتياض عن مجرد الحق باطل إلا إذا فوت حقا مؤكدا، فإنه يلحق بتفويت حقيقة الملك في حق الضمان كحق المرتهن." *بدائع الصنائع:(140/5،ط:دار الکتب العلمیة)* "(ومنها) أن يكون مالا لأن البيع مبادلة المال بالمال، فلا ينعقد بيع الحر؛ لأنه ليس بمال."