عبادات / قربانی و ذبیحہ / احکام ذبح

بیمار اور بے حرکت جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کے گوشت کا حکم

فتوی نمبر : 3305 0000-00-00 21 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

مفتی صاحب! کوئی جانور بیمار ہے اس کو ذبح کیا گیا ہے تو کس کس صورت میں اس کا گوشت حلال ہے؟اور جانور قبل ذبح حرکت نہیں کر رہا ، اگر بعد میں بھی وہ حرکت نہ کرے تو حلال ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر کوئی جانور بیماری کی وجہ سے بالکل ساکت اور بے حرکت ہو اور اسے ذبح کیا جائے تو اس کے گوشت کے حلال یا حرام ہونے کی مختلف صورتیں ہیں: پہلی صورت: اگر ذبح کرتے وقت جانور کا زندہ ہونا یقینی ہو تو اس کا گوشت حلال ہے، خواہ ذبح سے پہلے یا بعد میں اس نے حرکت کی ہو یا نہ کی ہو اور اس کا خون بہا ہو یا نہ بہا ہو۔ دوسری صورت: اگر ذبح کرتے وقت جانور کا زندہ ہونا یقینی نہ ہو تو اگر ذبح کے بعد اس نے حرکت کی یا اس کا خونِ مسفوح (بہنے والا خون) نکلا تو اس کا گوشت حلال ہوگا۔ تیسری صورت: اگر ذبح کے وقت جانور کی زندگی یقینی نہ ہو اور ذبح کے بعد بھی اس نے کوئی حرکت نہ کی اور نہ ہی اس کا خونِ مسفوح نکلا تو اس کا گوشت حلال نہیں ہوگا۔ البتہ ایسی صورت میں اگر حیات کی علامات، مثلاً منہ کا بند ہونا، آنکھ کا بند ہونا، ٹانگ کا سمٹنا یا بالوں کا کھڑا ہونا پائی جائیں تو یہ زندگی کی علامت ہیں۔ اس کے برخلاف منہ کا کھلا رہنا، آنکھ کا کھلا رہنا، ٹانگوں کا پھیل جانا اور بالوں کا بیٹھ جانا موت کی علامات ہیں،لہٰذا اگر ذبح سے پہلے جانور بالکل بے حرکت ہو اور ذبح کے بعد بھی کوئی حرکت نہ کرے تو محض اس بنیاد پر اس کے گوشت کو حلال یا حرام قرار نہیں دیا جائے گا، بلکہ ذبح کے وقت اس کی زندگی اور دیگر مذکورہ علامات کا اعتبار ہوگا۔

الهندية: (5/ 286،ط:دارالفكر) المتردية والمنخنقة والموقوذة والشاة المريضة والنطيحة ومشقوقة البطن إذا ذبحت ينظر إن كان فيها حياة مستقرة حلت بالذبح بالإجماع، وإن لم تكن الحياة فيها مستقرة تحل بالذبح سواء عاش أو لا يعيش عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو الصحيح وعليه الفتوى، كذا في محيط السرخسي. وأما خروج الدم بعد الذبح فيما لا يحل إلا بالذبح فهل هو من شرائط الحل فلا رواية فيه عن أصحابنا، وذكر في بعض الفتاوى أنه لا بد من أحد شيئين إما التحرك، وإما خروج الدم، فإن لم يوجد لا تحل، كذا في البدائع. وإن ذبح شاة أو بقرة فخرج منها دم، ولم تتحرك وخروجه مثل ما يخرج من الحي أكلت عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وبه نأخذ. رجل ذبح شاة مريضة فلم يتحرك منها إلا فوها إن فتحت فاها لا تؤكل، وإن ضمته أكلت، وإن فتحت عينها لا تؤكل، وإن غمضتها أكلت، وإن مدت رجليها لا تؤكل، وإن قبضتهما أكلت، وإن لم يقم شعرها لا تؤكل، وإن قام أكلت، هذا كله إذا لم يعلم أنها حية وقت الذبح لتكون هذه علامة الحياة فيها، أما إذا علمت حياتها يقينا وقت الذبح أكلت بكل حال، كذا في السراج الوهاج. الشامية: (6/ 309،ط:دارالفكر) (ذبح شاة لم تدر حياتها وقت الذبح) ولم تتحرك ولم يخرج الدم (إن فتحت فاها لا تؤكل، وإن ضمته أكلت، وإن فتحت عينها لا تؤكل وإن ضمتها أكلت، وإن مدت رجلها لا تؤكل، وإن قبضتها أكلت، وإن نام شعرها لا تؤكل، وإن قام أكلت) لأن الحيوان يسترخى بالموت؛ ففتح فم وعين ومد رجل ونوم شعر علامة الموت لأنها استرخاء ومقابلها حركات تختص بالحي فدل على حياته، وهذا كله إذا لم تعلم الحياة (وإن علمت حياتها) وإن قلت (وقت الذبح أكلت مطلقا) بكل حال زيلعي.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
میت کی طرف سے عقیقہ کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
مرغا ذبح کرنے کی دعا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
مشرک اہل کتاب،قبر پرست،غیر اللہ سے مانگنے والے اور شیعہ رافضی کے ذبیحہ کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
لڑکے کی پیدائش پر عقیقے میں ایک بکرا ذبح کرنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
جانور کو ذبح کرتے وقت قبلہ رخ کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیمار اور بے حرکت جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کے گوشت کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
جانور کو ذبح کرنے سے پہلے بے ہوش کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
سکھ کے ذبیحہ پر بسم اللہ پڑھنے سے ذبیحہ کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
سر کش گائے کو گولی مارنا